ایوان لاوا اگلنے لگے؛اسپیکرز اور حکومت آمنے سامنے، پسِ پردہ اندرونی کہانی بے نقاب

لاہور: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​پنجاب اور قومی اسمبلی کے ایوانوں میں پسِ پردہ شدید سرد جنگ اور ناراضگی کا دھواں اٹھنے لگا ہے جس نے موجودہ سیاسی نظام کے استحکام پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ اندرونی کہانی کے مطابق پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اسپیکر ملک احمد خان اور حکومتی وزراء کے درمیان شدید کھچاؤ پیدا ہو گیا ہے، جہاں اسپیکر کی جانب سے اپوزیشن کو عمران خان کی تصاویر لہرانے اور کھل کر سیاسی بیان بازی کرنے کی اجازت دینے پر حکومتی صفوں میں شدید مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ وزراء کی جانب سے واک آؤٹ کرنے پر اسپیکر نے دو ٹوک لفظوں میں تنقید برداشت کرنے کا درس دیا، جس پر صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایوان میں اسپیکر کو کڑے طنز کا نشانہ بنایا، جبکہ سردار شیر علی گورچانی کو بھی اسپیکر کی سخت تنبیہ کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں بھی اس وقت زلزلہ آگیا جب اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اسپیکر سردار ایاز صادق پر نو مئی کے قیدیوں اور ماہ رنگ بلوچ کی سزاؤں پر غیر جمہوری قوتوں کا ساتھ دینے کا سنگین الزام عائد کیا۔ اسپیکر ایاز صادق نے کڑا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف زہر اگلنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، جس پر اپوزیشن ایوان سے بائیکاٹ کر گئی۔ اسی دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے للکارا کہ اگر ہمارا مینڈیٹ جعلی ہے تو پھر 2018 کے الیکشن کی جادوگری اور ڈبے بدلنے کی تحقیقات بھی ہونی چاہئیں، کیونکہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ سیاسی حلقوں کے مطابق اسپیکرز کا حکومت کو آنکھیں دکھانا اور اندرونی کھچاؤ ظاہر کرتا ہے کہ پسِ پردہ سب اچھا نہیں ہے۔ گوہر بٹ کا یہ تہلکہ خیز وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے اس یوٹیوب لنک پر کلک کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button