پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے، دفتر خارجہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اورایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے، 21 گھنٹوں پر مبنی مذاکراتی عمل مجموعی طور پر تعمیری رہا، پاکستان خطے میں امن کیلئے پر عزم ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے انعقاد میں وزیر اعظم شہبازشریف نے بھرپور کردار ادا کیا، پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کاری کو سراہا جارہا ہے، وزیراعظم ریجنل ممالک کے دورے پر ہیں، فیلڈ مارشل کل تہران پہنچے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے اس کردار کو دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں سراہا جارہا ہے، دورے سے پہلے وزیر اعظم نے دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان سے رابطے کیے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم امن مذاکرات کے انعقاد کےلیے کوشاں رہی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی کوششوں سے ایران امریکا جنگ بندی ممکن ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف کو دیگر ممالک کی قیادت کی ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں، ایران امریکا کے مذاکرات 21 گھٹنے جاری رہے، مجموعی طور پر یہ پراسس تقریبا 30 گھنٹے تک رہا، دونوں وفد نے پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کی، مذاکرات عمل مجموعی طور پر تعمیری رہا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیچیدہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور تنازعات کے حل کے لیے اصولی، مکالمہ پر مبنی اور سفارتی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور مختلف فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بطور سہولت کار اور ثالثی کردار کے تحت متعلقہ فریقین کے ساتھ کھلے رابطے جاری رکھے ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار ہو۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور اعلیٰ عسکری قیادت کے رابطوں اور سفارتی کوششوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے، پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ تنازعات کا حل صرف بات چیت اور تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت کے دورۂ ایران سمیت مختلف سفارتی روابط بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہیں، جن کا مقصد علاقائی امن کے لیے مشاورت اور رابطوں کو مزید مؤثر بنانا ہے، پاکستان عالمی سطح پر ایک تعمیری اور ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور تمام تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو ہی واحد مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت خطے اور عالمی سطح پر سفارتی روابط کو مسلسل فعال رکھے ہوئے ہے تاکہ پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی چیلنجز سے نمٹا جا سکے اور معاشی و سفارتی تعاون کو فروغ دیا جا سکے[ پاکستان کی سفارت کاری کا محور مسلسل رابطہ، مذاکرات اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے، اور یہی پالیسی خطے میں استحکام اور معاشی بہتری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔



