ایلون مسک کے بیان کے بعد کووِڈ-19ویکسین پر نئی بحث، ماہرین نے غلط فہمیوں کی تردید کر دی

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)ٹیکنالوجی کمپنیوں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک کے کووِڈ-19 ویکسین سے متعلق حالیہ بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

ایلون مسک نے دعویٰ کیا تھا کہ کووِڈ-19 ویکسین کی خوراک زیادہ تھی اور بار بار لگوانا نقصان دہ ہو سکتا ہے، جبکہ ان کے مطابق دوسری خوراک کے بعد وہ خود بھی شدید بیمار ہوئے تھے۔

ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر ویکسین کے ممکنہ مضر اثرات سے متعلق مختلف دعوے گردش کرنے لگے۔

تاہم طبی ماہرین نے ان دعوؤں کو ذاتی تجربہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں سائنسی شواہد کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ ماہرین کے مطابق کووِڈ ویکسین شدید بیماری اور اموات سے بچاؤ میں اب بھی مؤثر ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ مشہور شخصیات کے ذاتی بیانات بعض اوقات غلط معلومات کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے عوام کو مستند طبی ذرائع پر اعتماد کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق ویکسین مکمل تحفظ نہیں دیتی لیکن شدید بیماری کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے، جبکہ سنگین مضر اثرات نہایت کم ہوتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button