افغانستان میں پوست کی کاشت میں 4گنا سے زیادہ اضافہ ہوگیا،اقوام متحدہ

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)اقوام متحدہ کے مطابق طالبان کی جانب سے پابندی کے باوجود افغانستان میں افیون کے لیے پوست کی کاشت میں 4 گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کی رپورٹ کے مطابق پوست کی کاشت کا رقبہ 2025 میں 10 ہزار ہیکٹر تھا، جو 2026 میں بڑھ کر 43 ہزار ہیکٹر (تقریباً ایک لاکھ 6 ہزار 200 ایکڑ) تک پہنچ گیا۔ اسی طرح افیون کی متوقع پیداوار بھی 2025 کے 300 ٹن سے پانچ گنا بڑھ کر 2026 میں 1500 ٹن ہوگئی۔

طالبان حکومت کی 2022 کی کارروائی کے نتیجے میں پوست کی کاشت کا رقبہ 2 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ سے کم ہو کر 2025 میں صرف 10 ہزار ہیکٹر رہ گیا تھا۔لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پوست کی بہت سی فصلیں اناج کی فصلوں کے درمیان یا دیواروں کے پیچھے چھپا کر کاشت کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کا پتا لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

اقوام متحدہ نے زور دیا ہےکہ غریب کسانوں کو اس منافع بخش فصل کے متبادل ذرائع فراہم کرنا ضروری ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق  افغانستان کاصوبہ بدخشاں ملک میں پوست کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔

اقوام متحدہ  کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپی یونین میں ہیروئن کی بڑی مقدار افغانستان سے حاصل ہونے والی افیون سے تیار کی جاتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button