عالمی ذخائر خطرناک حد تک کم،خام تیل کی قیمت 150 سے 160 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )عالمی منڈی میں خام تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کے باعث قیمتوں میں ایک اور بڑے اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ برقرار رہی تو عالمی معیشت کو شدید جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں آئندہ ہفتوں میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

امریکی آئل کمپنی ایکسن موبل کے سینئر نائب صدر نیل چیپ مین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو برینٹ خام تیل کی قیمت 150 سے 160 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران سے متعلق کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی محدود صورتحال نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث مختلف ممالک اپنے اسٹریٹجک ذخائر استعمال کر رہے ہیں، تاہم یہ سہارا طویل مدت تک برقرار نہیں رہ سکتا۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی  نے بھی خبردار کیا ہے کہ موسم گرما میں ایندھن کی طلب بڑھنے کے ساتھ ذخائر مزید کم ہو سکتے ہیں، جس سے قیمتوں پر اضافی دباؤ پڑے گا۔

ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو مہنگائی، شرح سود اور عالمی اقتصادی ترقی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ صارفین اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال معمول پر نہ آنے کی صورت میں پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ متوقع ہے اور ریٹ 450 سے 500 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button