نثار کھوڑو کا وفاقی وزیر داخلہ سے استعفے کا مطالبہ، ہائبرڈ نظام اور نئے صوبوں کی باتیں آئین کے خلاف ہیں

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے وفاقی وزیر داخلہ کے ہائبرڈ نظام کی حمایت، موجودہ نظام کے کولیپس ہونے اور نئے صوبوں سے متعلق بیانات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے، جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور نہیں کرتی، نیا صوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر آئین کے خلاف باتیں کی جائیں گی تو ایسی کوششیں کرنے والوں کو قوم کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نیا صوبہ بنانا ہے تو پنجاب میں بنایا جائے، جہاں ماضی میں اس حوالے سے قرارداد بھی منظور کی جا چکی ہے، تاہم سندھ میں نئے صوبے کی کوئی ضرورت نہیں۔
نثار کھوڑو نے وفاقی وزیر داخلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام ناکام ہو رہا ہے تو انہیں حکومت میں نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ہائبرڈ نظام اتنا ہی بہتر ہے تو پھر پارلیمنٹ اور ایوانوں میں بیٹھنے کی ضرورت کیوں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو قرضوں پر چلایا جا رہا ہے، ایک طرف اخراجات کم کرنے کی بات کی جاتی ہے جبکہ دوسری جانب مزید صوبے بنانے کی تجاویز دے کر اخراجات بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے۔
پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نے کہا کہ پاکستان میں مسائل کا حل آئین کی بالادستی، جمہوریت کے تسلسل اور منتخب اداروں کے احترام میں ہے۔ انہوں نے ماضی کے مارشل لاز اور جمہوری حکومتوں کے خاتمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو آئینی راستے سے ہی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ افواج پاکستان سیاست سے لاتعلقی کا مؤقف واضح کر چکی ہیں، تاہم بعض سیاسی بیانات سے اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے خالد مقبول صدیقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مصطفیٰ کمال سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ جلال پور کینال کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کونسل آف کامن انٹرسٹس (CCI) میں زیر التوا ہے اور اجلاس ہونے پر اسے اٹھایا جائے گا۔
اس موقع پر بزنس مین سعید ایس محمد نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، جس کا نثار کھوڑو نے خیر مقدم کیا۔



