پاکستان اور ملائیشیا کا سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق، مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوتیون بن اسماعیل نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون، انسداد دہشتگردی، انسداد منشیات، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے اشتراک بڑھانے پر زور دیا گیا۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ عقیدے، ثقافت، باہمی احترام اور عوامی روابط پر استوار ہیں۔
ملاقات میں دوطرفہ تجارت بڑھانے اور پاکستانی مصنوعات کے لیے ملائیشین مارکیٹ میں زیادہ رسائی کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ صدر زرداری نے چاول، آلو، گندم، پولٹری مصنوعات اور جانوروں کی خوراک سمیت پاکستانی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے پر زور دیا۔
ملائیشیا کے وزیر داخلہ نے بتایا کہ 2026 میں پاکستان اور ملائیشیا کے سفارتی تعلقات کو 69 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت مختلف پاکستانی شہروں اور ملائیشیا کے درمیان ہفتہ وار 14 پروازیں چل رہی ہیں، جن کی تعداد بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
دریں اثنا محسن نقوی سے ملاقات میں پاکستانی اور ملائیشین وزرائے داخلہ کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔ ملاقات میں انسداد دہشتگردی، انسداد منشیات، غیر قانونی امیگریشن، سائبر کرائمز اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک نے دہشتگردوں اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے انٹیلیجنس شیئرنگ بڑھانے، نیشنل پولیس اکیڈمی اور رائل ملائیشین پولیس کالج کے درمیان تعاون فروغ دینے اور کوسٹ گارڈز کے شعبے میں اشتراک پر بھی اتفاق کیا۔
ملاقات میں دونوں وزارت داخلہ کے درمیان تعاون کو مزید منظم بنانے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جلد ملائیشیا کا دورہ کرے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے کوسٹ گارڈ کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملائیشین وزیر داخلہ کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
ملاقات میں سیاحت کے فروغ، ویزا سہولیات میں آسانی اور ملائیشیا میں پاکستانیوں کے لیے قانونی روزگار کے مواقع بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔



