میرے پاس کراچی میں نئے اسپتال بنانے کا اختیار نہیں،وفاق اپنی ڈسپنسریاں ہی اپ گریڈ کر سکتا ہے، مصطفیٰ کمال

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد سرکاری اسپتال بنانے اور چلانے کا اختیار اور وسائل صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، اس لیے وفاقی وزیر کی حیثیت سے ان کے پاس سندھ یا کراچی میں نئے اسپتال قائم کرنے کا اختیار نہیں۔

کراچی میں وفاقی ڈسپنسری کو جدید اسپتال میں تبدیل کرنے کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیکب لائن ڈسپنسری کو جدید 30 بستروں پر مشتمل 24 گھنٹے فعال اسپتال میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو آئندہ تین ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے کراچی میں اپنی پانچ ڈسپنسریوں کو جدید اسپتالوں میں تبدیل کرنے کے لیے 2 ارب 86 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ ان میں سول ڈسپنسری ایئرپورٹ، گارڈن ڈسپنسری اور دیگر وفاقی طبی مراکز شامل ہیں، جنہیں جدید طبی سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران وفاق کے زیر انتظام طبی مراکز کی بحالی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ بڑے اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ کم کرنے کے لیے پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ جناح اسپتال سمیت بڑے سرکاری اسپتال اب صوبائی حکومتوں کے انتظام میں ہیں اور وفاق بجٹ کے ذریعے ان کے لیے وسائل بھی صوبوں کو منتقل کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اختیار ہوتا تو کورنگی، لیاقت آباد اور کراچی کے دیگر گنجان آباد علاقوں میں بھی نئے اسپتال قائم کرتے۔

مصطفیٰ کمال نے کراچی کے شہریوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی خواہش کے باوجود صوبائی دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں میں نئے اسپتال یا ڈسپنسریاں قائم نہیں کر سکتے، تاہم وفاق کے زیر انتظام طبی مراکز کی اپ گریڈیشن اور جدید کاری کا عمل بدستور جاری رہے گا۔

مزید خبریں

Back to top button