لاہور میں بیٹھ کر کوئی سندھ کی تقسیم کا فیصلہ نہیں کرے گا،فیصلہ سندھ اسمبلی کرے گی،مراد علی شاہ

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں بیٹھ کر کوئی سندھ کی تقسیم کا فیصلہ نہیں کرسکتا، سندھ کے بارے میں فیصلہ سندھ اسمبلی ہی کرے گی۔

سندھ کی انتظامی یا جغرافیائی تقسیم سے متعلق وقتاً فوقتاً سامنے آنے والی تجاویز پر ردعمل دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ سندھ ایک وحدت ہے اور اسے تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

’’سندھ کے بارے میں فیصلہ سندھ اسمبلی کرے گی‘‘

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ٹیلی ویژن پروگراموں یا کسی دوسرے صوبے میں بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا۔ سندھ کے مستقبل، وحدت اور انتظامی حیثیت کے بارے میں فیصلہ سندھ کے منتخب نمائندے اور سندھ اسمبلی ہی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی صوبے کے عوام کی منتخب نمائندہ قانون ساز اتھارٹی ہے، اس لیے سندھ سے متعلق کسی بھی بڑے آئینی یا انتظامی معاملے میں اسمبلی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

’’سندھ کبھی تقسیم نہیں ہوسکتی‘‘

مراد علی شاہ نے سندھ کی تقسیم کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ایک تاریخی، ثقافتی اور سیاسی وحدت ہے، اسے تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنی سرزمین، شناخت اور صوبائی وحدت کے حوالے سے حساس ہیں، اس لیے کسی بھی ایسے اقدام یا تجویز کو قبول نہیں کیا جائے گا جس سے سندھ کی تقسیم کی راہ ہموار ہو۔

سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کے عوام کی رائے اور منتخب نمائندوں کی مرضی کو نظر انداز کرکے کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ صوبے کے معاملات میں آئینی اداروں اور منتخب اسمبلی کے کردار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز پر سندھ اسمبلی میں بحث اور صوبے کے منتخب نمائندوں کی رائے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

مراد علی شاہ کے خطاب کے بعد سندھ کی تقسیم سے متعلق سیاسی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے، تاہم وزیر اعلیٰ سندھ نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ لاہور میں بیٹھ کر کوئی سندھ کی تقسیم کا فیصلہ نہیں کرسکتا؛ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ سندھ اسمبلی ہی کرے گی۔

’’دھرتی سے کھیلتے کھیلتے بلوچستان کے حالات کہاں پہنچ گئے‘‘، نثار کھوڑو کا دوٹوک پیغام

سندھ کی تقسیم سے متعلق جاری سیاسی بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نثار احمد کھوڑو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دھرتی اور صوبوں کی وحدت کے ساتھ کھیلنے کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔

نثار کھوڑو نے سندھ کی تقسیم کی بات کرنے والوں سے سوال کیا کہ ’’دھرتی سے کھیلتے کھیلتے دیکھ رہے ہو بلوچستان کے حالات کہاں پہنچ گئے، کیا تم چاہتے ہو سندھ کے حالات بھی ایسے ہوجائیں؟ توڑ کر کیا ملے گا؟‘‘

انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم یا دھرتی کو توڑنے کی باتیں کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس کے نتیجے میں مزید بے چینی اور انتشار پیدا ہوسکتا ہے۔

’’کیا تم چاہتے ہو سندھ کے حالات بھی ایسے ہوجائیں؟‘‘

نثار کھوڑو نے بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے سندھ کی تقسیم کے مطالبات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی علاقے کی جغرافیائی اور سیاسی وحدت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر تقسیم کے نتیجے میں مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں تو پھر ’’توڑ کر کیا ملے گا؟‘‘

پیپلز پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام اپنے صوبے کی وحدت اور شناخت کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں اور سندھ کو تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش شدید سیاسی ردعمل کا باعث بن سکتی ہے۔

سندھ کی تقسیم کی مخالفت

سندھ کی تقسیم سے متعلق تجاویز پر پیپلز پارٹی پہلے ہی متعدد مرتبہ واضح مؤقف اختیار کرچکی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سندھ کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی تجاویز قابل قبول نہیں اور صوبے کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

نثار کھوڑو کے حالیہ بیان نے بھی اسی مؤقف کو مزید واضح کردیا ہے کہ سندھ کے مستقبل سے متعلق فیصلے صوبے کے عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی رائے کو سامنے رکھ کر ہی ہونے چاہئیں۔

سیاسی ماحول میں گرما گرمی

سندھ کی تقسیم سے متعلق حالیہ بیانات کے بعد صوبے کی سیاست میں ایک مرتبہ پھر گرما گرمی پیدا ہوگئی ہے۔ مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا جارہا ہے، جبکہ سندھ کی بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے صوبے کی تقسیم کی مخالفت کی جارہی ہے۔

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبے کے مطالبے کا معاملہ ماضی میں بھی سیاسی کشیدگی کا باعث بنتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں نثار کھوڑو کا بلوچستان کی مثال دیتے ہوئے سوال اٹھانا اس بحث کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔

’’توڑ کر کیا ملے گا؟‘‘

نثار کھوڑو نے اپنے بیان میں بنیادی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سندھ کو توڑنے سے آخر حاصل کیا ہوگا؟ ان کے مطابق سیاسی اختلافات اور انتظامی مسائل کا حل صوبے کی تقسیم نہیں بلکہ موجودہ نظام کو بہتر بنانا اور عوام کے مسائل حل کرنا ہونا چاہیے۔

انہوں نے سندھ کی وحدت کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دھرتی کو تقسیم کرنے کے بجائے اس کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

نثار کھوڑو کے اس بیان کے بعد سندھ کی تقسیم کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے، جبکہ ان کا بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سوال کہ ’’کیا تم چاہتے ہو سندھ کے حالات بھی ایسے ہوجائیں؟ توڑ کر کیا ملے گا؟‘‘ سیاسی حلقوں میں خاصی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button