سندھ اسمبلی میں تھرپارکر کے مسائل کی گونج، ایم پی اے سریندر ولاسائی کا پانی کی شدید قلت پر فوری نوٹس کا مطالبہ

تھرپارکر (رپورٹ : میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)  سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم پی اے سریندر ولاسائی نے ضلع تھرپارکر کو درپیش اہم مسائل اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں پانی کی شدید قلت عوام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ اسمبلی فلور پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تھرپارکر کی تقریباً 99 فیصد آبادی سرکاری زمینوں پر اپنے گھر تعمیر کیے ہوئے ہے، تاہم قبضہ مافیا کی جانب سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور متعدد غریب خاندانوں کو بے دخل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جو لوگ جہاں آباد ہیں، انہیں وہیں مالکانہ حقوق دے کر زمینیں رجسٹر کی جائیں تاکہ وہ قبضہ مافیا سے محفوظ رہ سکیں۔ سریندر ولاسائی نے صوبائی وزیر آبپاشی سے بھی مطالبہ کیا کہ رن شاخ میں پانی نہ پہنچنے کے معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور متاثرہ علاقوں تک پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے تھرپارکر میں منشیات، سفینہ گٹکا اور دیگر نشہ آور اشیاء کی فروخت کے خلاف بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کے لیے ایسے کاروباروں کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر سب سے پہلے انہوں نے ہی آواز اٹھائی تھی، جس کے بعد مختلف حلقوں نے بھی اس کی حمایت کی۔ایم پی اے سریندر ولاسائی نے دیوین کے درختوں سے متعلق جاری تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات کے باعث روزانہ تھانوں اور مختیارکار دفاتر کے چکر لگائے جاتے ہیں، جبکہ ڈیپلو اور کلوئی جیسے علاقوں میں اس مسئلے پر جانی نقصان کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پانی، مالکانہ حقوق، منشیات کی روک تھام اور دیوین کے درختوں سے متعلق تنازعات کا خاتمہ تھرپارکر کے عوام کی بنیادی ضروریات ہیں، جن پر حکومت کو سنجیدگی سے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ مقامی حلقوں نے سندھ اسمبلی میں تھرپارکر کے اہم مسائل پر آواز اٹھانے پر سریندر ولاسائی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو عوام کی موجودہ مشکلات کے ساتھ ساتھ ان کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچتی ہو۔

مزید خبریں

Back to top button