اقتصادی پابندیوں میں امریکہ کا ساتھ دینے والے ممالک کے مفادات نشانے پر ہوں گے، ایران

تہران(ویب ڈیسک) ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایران کے خلاف امریکی اقتصادی اقدامات میں واشنگٹن کا ساتھ دیں گے، ایران ان کے مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اپنے بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ ایران پر حملوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش کو بڑھا دیا ہے۔ ان کے بقول جب عالمی برادری نے دیکھا کہ عالمی جوہری ادارے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی رکنیت امریکی حملوں کو روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئی تو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی خواہش مزید بڑھی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ نے جوہری سلامتی کے بجائے جوہری عدم تحفظ پیدا کیا، جبکہ ایران نے تمام بین الاقوامی حفاظتی اقدامات قبول کیے ہیں۔
محسن رضائی نے کہا کہ جنگ کے بعد کا ایران پہلے جیسا نہیں رہا اور فوجی تقرریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ تہران آئندہ کسی بھی جنگ کے لیے ہر وقت تیار رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی نوجوانوں میں امریکا کے امن پسند ملک ہونے کا تصور بھی ختم ہوچکا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ جنگ کے تجربات کو آئندہ تنازع میں استعمال کیا جائے گا اور جنگ لڑنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی جائے گی۔
محسن رضائی کے مطابق امریکی سمجھتے تھے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد وہ ایران کے تیل اور گیس پر قبضہ کرلیں گے، تاہم ان کے بقول جنگ کے دوران 1,200 آئل ٹینکر ناکارہ ہوئے اور عالمی بحری بیڑے کا 15 فیصد متاثر ہوا۔
انہوں نے مزید دھمکی دی کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمد روکنے کے ساتھ ایران تیل کی برآمد کے دیگر راستوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف اقتصادی جنگ مسلط کرنے پر آمادہ کیا۔ ان کے مطابق ٹرمپ ابتدا میں شکوک و شبہات کا شکار تھے، تاہم نیتن یاہو نے انہیں یہ اقدام دو سے تین ماہ آزمانے اور بعد میں مزید چھ ماہ جاری رکھنے کا جائزہ لینے پر قائل کیا۔



