مسلم اتحاد سے دشمنوں کو شکست ہوئی، بیرونی طاقتوں پر انحصار کی سکیورٹی کمزور ہوتی ہے، باقر قالیباف

تہران (ویب ڈیسک) ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ مسلم اقوام کا اتحاد ہی خطے کی مضبوط، باوقار اور پائیدار سلامتی کی بنیاد بن سکتا ہے، جبکہ بیرونی طاقتوں کی موجودگی اور مداخلت پر انحصار کرنے والی سکیورٹی انتہائی کمزور ہوتی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق باقر قالیباف نے کہا کہ ایران مختلف نسلی اور مذہبی گروہوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی سرزمین ہے، جبکہ سنی شیعہ اتحاد محض ایک علامتی یا رسمی نعرہ نہیں بلکہ قومی طاقت اور ملکی سلامتی و ترقی کا اہم اثاثہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کی جانب سے مسلط کی گئی پہلی، دوسری اور تیسری جنگ کے دوران ایران میں مختلف مذاہب اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی برادریوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں متحد رہیں۔

ایرانی اسپیکر کے مطابق مسلم دنیا اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے اور خطے میں حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم اقوام اور حکومتیں اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہیں کہ بیرونی طاقتیں نہ تو خطے کو پائیدار سکیورٹی فراہم کرسکتی ہیں اور نہ ہی حقیقی معنوں میں ایسا کرنے کی خواہاں ہیں۔

باقر قالیباف نے کہا کہ خطے سے باہر کی طاقتوں کی موجودگی اور مداخلت کی بنیاد پر قائم سکیورٹی کمزور اور دوسروں پر منحصر ہوتی ہے، جبکہ مسلم اقوام کی مرضی اور علاقائی ممالک کے درمیان برادرانہ تعاون پر مبنی سکیورٹی زیادہ مستحکم، باوقار اور پائیدار ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سوچ کے آثار نئے علاقائی اتحاد، تعاون اور انتظامات کی صورت میں نظر آ رہے ہیں، جو ایسے نئے دور کی بنیاد بن سکتے ہیں جس میں مسلم ہمسایہ ممالک بیرونی طاقتوں کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر انحصار کریں اور باہمی دشمنیوں کے بجائے تعاون و بھائی چارے کو فروغ دیں۔

ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ حالیہ پیش رفت کے تناظر میں مسلم اتحاد کا نتیجہ دشمن کو شکست اور طاقتور قوتوں کے عزائم کے خلاف مزاحمت میں کامیابی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

باقر قالیباف نے امید ظاہر کی کہ مسلم دنیا اپنی مشترکہ شناخت کی جانب مزید مضبوطی سے واپس آئے گی اور مسلم اقوام کے درمیان بھائی چارے کے رشتے مزید مستحکم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ خطہ اسلامی اتحاد، خودمختاری، سلامتی اور وقار کے نئے دور کی صبح دیکھے گا، جس میں مسلمان اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں گے اور کوئی بیرونی طاقت ان کے درمیان اختلاف اور تقسیم پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button