مٹھی میں زرعی زمین کے تنازع پر خونریز تصادم، فائرنگ اور کلہاڑیوں کے وار،10افرادزخمی

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) مٹھی تعلقہ کے گاؤں رائیلو رند میں زرعی زمین پر مبینہ قبضے کی کوشش کے معاملے پر دو فریقین میں جھگڑا ہو گیا، جس کے دوران مبینہ طور پر بندوقوں اور کلہاڑیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ واقعے میں فائرنگ اور کلہاڑیوں کے وار سے خواتین سمیت 10 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں پھونو بھیل ولد منو، پرتاب ولد پھونو بھیل، مہرو ولد پھونو، بھورو ولد ڈاہو، نگجی ولد داہو، لاکو ولد وشنو، لیمون ولد سومار، گلاب ولد بھاڻو، ورجو زوجہ لاکو اور بھاگاں زوجہ داہو بھیل شامل ہیں، جنہیں علاج کے لیے سول اسپتال مٹھی منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ متاثرین کے مطابق واقعہ صبح سویرے کھیت نمبر 51 پر پیش آیا، جو پھونو بھیل کی آبائی ملکیت ہے اور انہوں نے اس میں فصل کاشت کی تھی۔ زخمی فریق کا الزام ہے کہ کچھ افراد نے مبینہ طور پر زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور اس دوران ان پر حملہ کیا گیا۔ زخمی مہرو اور پھونو بھیل نے تھر پریس کلب مٹھی پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ مذکورہ زمین ان کی آبائی ملکیت ہے، جس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نور محمد عرف نورو رند اور رمضان رند کی مبینہ ایما پر ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، جس میں فائرنگ کے ساتھ کلہاڑیوں اور ڈنڈوں کا استعمال کیا گیا۔ متاثرین نے مزید الزام لگایا کہ حملے میں پولیس اہلکار گینو ولد جامون بھیل بھی مبینہ طور پر شامل تھا، جس کے باعث انہیں خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ محنت مزدوری کرنے والے غریب لوگ ہیں اور اپنی محنت سے روزگار کماتے ہیں، لیکن ان کی زمین پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ احتجاج کرنے والوں نے سندھ کے وزیر اعلیٰ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی میرپورخاص، ایس ایس پی تھرپارکر اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کروا کر حملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں فوری گرفتار کیا جائے۔ دوسری جانب گاؤں رائیلو رند میں فائرنگ کے واقعے کے بعد خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ واقعے کی اطلاع مٹھی تھانے کو دے کر درخواست بھی جمع کروائی گئی ہے، جبکہ پولیس کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔



