مٹھی میں مبینہ بڑی ڈکیتی،شہریوں میں خوف وتشویش کی لہر

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر کے ضلعی ہیڈکوارٹر مٹھی میں مبینہ طور پر ڈکیتی کی ایک بڑی واردات پیش آنے کے بعد شہریوں میں امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مٹھی شہر کے پرانے ناکہ کے قریب دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد، جنہوں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، بینک سے تنخواہ نکلوا کر واپس آنے والے عدالتی ملازم یاسین سموں کو روک لیا۔ شہریوں کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر انہیں دھکے دے کر زمین پر گرا دیا اور ان سے تقریباً چھ لاکھ روپے نقد رقم چھین کر باآسانی فرار ہو گئے۔ واردات کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ مٹھی ملک بھر میں امن، مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس نوعیت کی واردات شہر کے پرامن تشخص کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ شہریوں نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کر کے ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ یومِ آزادی کے مہینے کے پیش نظر شہر میں پولیس گشت، نگرانی اور سکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جرائم کے خاتمے کے لیے صرف پولیس ہی نہیں بلکہ ضلعی انتظامیہ، تاجر برادری، صحافیوں اور عام شہریوں کو بھی مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مٹھی کی تاریخی پرامن شناخت برقرار رہ سکے۔
شہریوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واقعے کی تحقیقات مکمل طور پر قانون اور شواہد کی بنیاد پر کی جائیں اور بغیر ثبوت کسی فرد یا گروہ پر الزام تراشی سے گریز کیا جائے، کیونکہ انصاف اور قانون کی بالادستی ہی ایک پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔



