مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں نے امریکا کو مشکل میں ڈال دیا، برطانوی اخبار

واشنگٹن(ویب ڈیسک) ایران کے ساتھ تقریباً چھ ماہ جاری رہنے والی جنگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی کمزوریاں نمایاں کردی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے خلیجی ممالک میں موجود بڑے فوجی اڈوں کے نیٹ ورک کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم حالیہ جنگ کے دوران ایران نے امریکی تنصیبات کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق ایرانی حملوں نے واضح کیا کہ ایرانی ساحلوں کے قریب موجود بڑے امریکی اڈے جدید میزائل اور ڈرون حملوں کے مقابلے میں کس حد تک غیر محفوظ ہوسکتے ہیں۔

ایرانی حملوں کے دباؤ کے باعث امریکا نے اپنی کچھ افواج اور جنگی طیارے اسرائیل، اردن اور دیگر نسبتاً محفوظ و دور دراز مقامات پر منتقل کیے، جبکہ بعض امریکی طیاروں اور ڈرونز نے یورپ میں موجود فوجی اڈوں سے بھی کارروائیاں کیں۔

اب واشنگٹن کو یہ فیصلہ درپیش ہے کہ متاثرہ فوجی تنصیبات کی دوبارہ تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کیے جائیں یا بدلتی ہوئی جنگی صورتحال کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے پورے ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کے تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ نے اپریل میں اندازہ لگایا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے 7 ممالک میں موجود 11 امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت پر تقریباً 5 ارب ڈالر درکار ہوسکتے ہیں۔

تاہم پینٹاگون نے ایران کے ساتھ جنگ کی مجموعی لاگت کے تخمینے میں ان فوجی اڈوں کی تعمیر نو کے اخراجات شامل نہیں کیے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی حکمت عملی میں تبدیلی کے باوجود ایران بھی اپنی فوجی صلاحیتوں کو نئی صورتحال کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے گا۔

اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس کے ایک سابق عہدیدار کے مطابق ایران مستقبل میں ایسے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے جو اردن اور اسرائیل سمیت خطے میں موجود امریکی اور اتحادی اہداف تک پہنچ سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران اپنی فوجی تیاری کا رخ تبدیل کرسکتا ہے، تاہم امریکی اور اتحادی اہداف کو نشانہ بنانے کی کوششیں جاری رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے قائم ’’تیل کے بدلے سکیورٹی‘‘ کا انتظام بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بعض خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکا کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی طاقتوں سے بھی تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی اتحادیوں کے سامنے بھی ایک اہم سوال کھڑا کردیا ہے کہ بحران کی صورت میں واشنگٹن کی جانب سے ان کے دفاع کا عزم آخر کس حد تک قابلِ اعتماد ہے۔

مزید خبریں

Back to top button