مریم نوازاور بلاول آمنے سامنے،بچوں کی لڑائی میں بڑے کود پڑے،تلخیاں بڑھ گئیں

لاہور(تجزیاتی رپورٹ) مریم نوازاور بلاول آمنے سامنے،بچوں کی لڑائی میں بڑے کود پڑے۔پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے پارٹی ترجمان کی لفظی گولہ باری کے بعد دونوں جماعتوں کی قیادت نے بھی ایکدوسرے پر تنقید کے نشتر چلانا شروع کردیئے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کی بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے
ذریعے سیلاب متاثرین کی ضد پر مریم نواز کھل کر سامنے آگئیں
بلاول بھٹو زرداری پنجاب میں سیلاب آنے کے فوری بعد سے مسلسل یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سیلاب متاثرین کو مالی امداد فراہم کی جائے ۔پنجاب حکومت کی ترجمان عظمیٰ بخاری اور دیگر وزرا اس کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ تک اس مطالبے کے مخالف رہے۔جمرات کو بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےاپنا مطالبہ دہرایا اورساتھ ہی سیلاب متاثرین کیلئے عالمی امداد کی اپیل نہ کرنے پر بھی حیرت کا اظہار کیا۔
شرجیل میمن اور عظمیٰ بخاری کی
”منہ ماری”نے نیا رُخ اختیار کرلیا
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جو براہ راست اس معاملے پر بات نہیں کر رہی تھیں وہ کھل کر بول اٹھیں اور پیپلز پارٹی پر تابڑ توڑ حملے کر دئے ۔ ڈیرہ غازی خان الیکٹرک بسوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے الزام لگایا کہ ان کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی پنجاب کے سیلاب پر سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو اپنے مشورے اپنے پاس رکھنے کا مشورہ دے ڈالا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سیلاب متاثرین کو صرف10-10ہزار ہی دئے جا سکتے ہیں.
وہ سیلاب متاثرین کو 5سے 10لاکھ تک کی امداد دیں گی
وہ سیلاب متاثرین کو 5سے 10لاکھ تک کی امداد دیں گی۔جن کے گھر جزوی یا مکمل تباہ ہوئے ان کو وہ گھر بنا کر دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مفت میں مشورہ دیا جا رہا ہے کہ ہم سیلاب متاثرین کیلئے عالمی امداد مانگیں، مریم نواز نے کہا کہ مریم نواز نواز شریف کی بیٹی ہے، وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے گی.
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شٹ اپ کال کیوں دی؟
مریم نواز پنجاب کے وسائل پنجاب کے عوام پر خرچ کرے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ سے دیگر صوبوں کو ملنے والی رقم عوام پر خرچ نہ ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ وفاق سے جو اربوں کھربوں کا حصہ آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے ، ہم تو اپنے عوام پر خرچ کرتے ہیں۔ مریم نواز نے نام لئے بغیر سابق وزیراعظم چیئرمن سینیٹ یوسف رضا گیلانی پر بھی تنقید کرڈالی۔انہوں نے کہا جو ہر وقت جنوبی پنجاب جنوبی پنجاب کہتے رہتے ہیں ان کو بھی اعلیٰ عہدے ملے۔
مریم نواز نے چیئرمین سینیٹ پر جنوبی پنجاب کا نام لے کر تنقید کے نشتر چلادیئے
انہوں نے کیا کیا جنوبی پنجاب کیلیے انہوں نے کیا دیا ملتان کو۔ موٹر ویز دیں تو نواز شریف نے دیں، میٹرو دی تو نواز شریف نے دی ، اب وہ پنجاب کو جنوبی، وسطی اور شمالی پنجاب میں تقسیم کر رہے ہیں۔ پنجاب ایک ہے اور میرے لئے ہر حصہ برابر ہے ۔ مریم نواز ایک موقعہ پرزیادہ جذباتی بھی ہو گئیں اور انہوں نے صدر زرداری اور بلاول بھٹو سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ترجمانوں کو سیلاب پر سیاست کرنے سے باز رکھیں



