وفاقی حکومت کا بڑا اقدام، ایران اور وسطی ایشیا کو آموں کی برآمدات کیلئے سرحدی کلیئرنس تیز کرنے کی ہدایت

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے) وفاقی حکومت کا بڑا اقدام: ایران و وسطی ایشیا کو آموں کی برآمدات کے لیے سرحدی کلیئرنس تیز کرنے کی ہدایات جاری۔ وفاقی حکومت نے ایران کی سرحد کے راستے پاکستان سے ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کو برآمد کیے جانے والے آموں کی ترسیل میں تاخیر اور سرحدی کلیئرنس کے باعث ہونے والے ممکنہ نقصانات کے خدشات کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو فوری اور عملی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ آبادگار بورڈ کی جانب سے وفاقی حکومت کو بارہا آگاہ کیا گیا تھا کہ آموں کی برآمدی کھیپ سرحدی پوائنٹس تافتان اور رمداں (چابہار) پر کسٹمز، پی ایل پی اے، ایف بی آر اور دیگر اداروں کی کارروائیوں میں تاخیر کے باعث خراب ہونے کے خطرات سے دوچار ہو جاتی ہے جس سے نہ صرف زرعی برآمدات متاثر ہوتی ہیں بلکہ کسانوں اور برآمد کنندگان کو بھاری مالی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے سندھ آبادگار بورڈ کے صدر محمود نواز شاہ نے 24 مئی 2026 کو وفاقی وزیرِ تجارت کو تفصیلی خط ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ آم ایک نہایت حساس اور جلد خراب ہونے والی زرعی پیداوار ہے، اس لیے سرحدی کلیئرنس کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر فاسٹ ٹریک کیا جانا ضروری ہے تاکہ برآمدی کھیپ بروقت اپنی منازل تک پہنچ سکے۔ وفاقی حکومت نے اس درخواست پر فوری نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ تافتان اور رمداں سرحدی پوائنٹس پر آموں کی کلیئرنس کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور کسٹمز سمیت تمام قانونی و انتظامی مراحل کو تیز رفتاری سے نمٹایا جائے تاکہ برآمدی عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔ زرعی ماہرین کے مطابق پاکستان کے آم عالمی منڈیوں میں اپنی اعلیٰ کوالٹی اور ذائقے کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں، تاہم سرحدی تاخیر اور انتظامی رکاوٹیں اس شعبے کی ترقی میں مسلسل رکاوٹ کا باعث بنتی رہی ہیں۔ سندھ آبادگار بورڈ نے وفاقی حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد سے برآمدی آم کی ترسیل میں بہتری آئے گی اور ملک کے زرعی شعبے کو براہِ راست فائدہ حاصل ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button