اگر عوام کو بہتر زندگی نہیں ملتی تو وہ جمہوریت کو کیا کریں گے؟ گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان

حکومت میں ہوں تو سب اچھا، باہر ہوں تو فوج کو گالیاں، قائم مقام گورنر کا یونیورسٹی آف لاہور میں سیمینار سے خطاب

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) اسپیکر پنجاب اسمبلی و قائم مقام گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ جب تک عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو بااختیار نہیں بنایا جائے گا، ملک میں گورننس کا نظام مضبوط نہیں ہو سکتا۔ اگر جمہوریت عوام کو ‘بہتر طرزِ زندگی’ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ ایسی جمہوریت کو کیا کریں گے؟

یونیورسٹی آف لاہور کے زیراہتمام "گورننس لیکن نظام کیا” کے موضوع پر منعقدہ خصوصی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام گورنر ملک محمد احمد خان نے ملک کے سیاسی و انتظامی نظام اور بیانیے پر بے باکانہ اور گہری گفتگو کی۔

سیاسی رہنماؤں کی منافقت اور فوج کے حوالے سے بننے والے بیانیے پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا

ہم نے یہ عجیب اسلوب طے کر لیا ہے کہ جو شخص فوج کو گالی دے گا وہ مقبول ہو جائے گا۔ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو فوج کے ساتھ ہوتے ہیں اور سب اچھا لگتا ہے، لیکن جیسے ہی اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو فوج کو گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہمارا سیاسی نظام آخر چلنا کیسے ہے؟

ملک میں مقامی حکومتوں اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ایگزیکٹیو اتھارٹی منتخب نمائندوں کے پاس ہونی چاہیے، لیکن اتنے سال گزرنے کے باوجود آئین کی روح پر عمل نہیں ہو رہا۔ میرے اپنے علاقے کے دیہاتوں میں آج بھی میونسپل سروسز اور بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ 25 کروڑ عوام کا نظام محض 1500 ارکانِ اسمبلی کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا۔

قائم مقام گورنر نے کہا کہ ریاست کے ساتھ بطور شہری میرا معاہدہ ہے کہ مجھے اس میں حصے دار بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں برداشت کی فضا ختم ہوتی جا رہی ہے اور اگر کوئی نیا صوبہ بنانے یا انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی کی بات کرتا ہے تو اس پر کشادہ دلی سے بات چیت ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے تمام دھاروں کو مل بیٹھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔

مزید خبریں

Back to top button