مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا امتحان؟ جازان پر حوثیوں کے مبینہ حملے سے خطے میں کھلبلی، ایران کی سخت شرائط کا دعویٰ

لاہور (خصوصی رپورٹ: جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ مکہ دفاعی معاہدے کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ سعودی عرب کے شہر جازان میں آرامکو کی تنصیبات پر حوثیوں کے تازہ مبینہ حملے کی اطلاعات نے دفاعی حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے، جبکہ دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے بھی اہم دعوے سامنے آئے ہیں۔

مکہ دفاعی معاہدہ، پہلا بڑا امتحان؟

رپورٹ کے مطابق جازان میں سعودی تیل تنصیبات کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا نیا دفاعی تعاون علاقائی سیکیورٹی چیلنجز سے کس طرح نمٹتا ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے میں تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیے جانے کی شق نے پہلے ہی عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل کی ہے۔ ایسے میں سعودی عرب میں کسی بڑے حملے کی اطلاع نے معاہدے کی دفاعی نوعیت اور مستقبل کے ممکنہ ردعمل پر بحث مزید تیز کردی ہے۔

ایران کی امریکا کے سامنے6سخت شرائط؟

دوسری جانب رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے پاکستان اور قطر جیسے ثالثی ممالک کے ذریعے امریکا کے سامنے 6 سخت شرائط رکھی ہیں۔

ان مبینہ شرائط میں غزہ، لبنان اور یمن میں فوری جنگ بندی، مبینہ طور پر 300 ارب ڈالر معاوضے کا مطالبہ اور آبنائے ہرمز سے متعلق خصوصی انتظامات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اگر یہ مطالبات مستند ثابت ہوتے ہیں تو ایران اور امریکا کے درمیان مستقبل کے کسی بھی مذاکرات میں یہ شرائط انتہائی اہمیت اختیار کرسکتی ہیں۔ تاہم ان مبینہ شرائط کی مکمل اور آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

آبنائے ہرمز بھی مذاکرات کا اہم موضوع؟

رپورٹ میں آبنائے ہرمز سے متعلق مبینہ شرط نے خصوصی توجہ حاصل کی ہے۔ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہونے والے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی بڑے فیصلے کے عالمی توانائی منڈی اور علاقائی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اسی وجہ سے ایران کی جانب سے مبینہ طور پر اس معاملے کو مذاکرات کا حصہ بنانے کی اطلاعات نے خطے کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

پاکستان کا ممکنہ ثالثی کردار

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان سمیت بعض ممالک کے سفارتی رابطوں کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ اگر اسلام آباد کسی ممکنہ مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کرتا ہے تو پاکستان کو خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال میں کسی بھی پیش رفت کا انحصار ایران، امریکا اور دیگر متعلقہ فریقوں کے باضابطہ مؤقف پر ہوگا۔

جازان کے مبینہ حملے، مکہ دفاعی معاہدے اور ایران کی مبینہ سخت شرائط نے خطے میں ایک ساتھ کئی بڑے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ، ایران اور امریکا کی جانب سے آئندہ کیا عملی اور سفارتی اقدامات سامنے آتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button