پسند کی شادی اور گھر مسمار کرنے کے الزامات، گولارچی میں کمبوہ برادری کا احتجاج

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے) گولارچی کے چک نمبر 5 میں پسند کی شادی، گھر مسمار کرنے اور ماچھی برادری کو مبینہ طور پر نقل مکانی پر مجبور کرنے کے الزامات کے خلاف کمبوہ برادری نے گولارچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اور بعد ازاں پریس کانفرنس کی۔

احتجاج کی قیادت علاقہ معززین حق نواز کمبوہ، منظور احمد کمبوہ، حاجی محبوب کمبوہ، رؤف کمبوہ، اعظم کمبوہ، یحییٰ کمبوہ، شاہد آرائیں سمیت دیگر نے کی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمبوہ برادری کے رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ماچھی برادری کے بعض افراد ان کی ایک شادی شدہ اور حاملہ خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کرکے لے گئے تھے، جس کے خلاف گولارچی تھانے میں مقدمہ بھی درج کرایا گیا۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ماچھی برادری کے افراد ان کے ہاں بطور ہاری کام کرتے تھے، تاہم اب معاملے کو مختلف رخ دے کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کمبوہ برادری نے ان کے گھر مسمار کیے اور انہیں گاؤں چھوڑنے پر مجبور کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ نہ کسی کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا اور نہ ہی کسی کے گھر مسمار کیے گئے، بلکہ ماچھی برادری کے افراد اپنی مرضی سے گھروں کا سامان لے کر وہاں سے منتقل ہوئے۔

کمبوہ برادری کے رہنماؤں نے مزید دعویٰ کیا کہ ماچھی برادری کے افراد پر ان کے تقریباً 60 لاکھ روپے واجب الادا ہیں اور رقم کی واپسی سے بچنے کے لیے مبینہ طور پر معاملے کو مختلف انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروا کر اصل حقائق سامنے لائے جائیں اور سوشل میڈیا پر غیرمصدقہ خبروں اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button