ماتلی کے باسیوں نے حیسکو اور وفاقی حکومت سے رات کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا

ماتلی(نمائندہ ایم راحیم گدی /جانو ڈاٹ پی کے )ماتلی کے شہریوں نے حیسکو چیف، وفاقی حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کے سٹی ون، سٹی ٹو اور دیگر شہری فیڈرز پر رات پونے دو بجے سے پونے چار بجے تک جاری لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم کی جائے، کیونکہ شہریوں کے مطابق یہی وہ اوقات ہوتے ہیں جب لوگ دن بھر کی محنت، کاروبار، ملازمت اور دیگر مصروفیات کے بعد آرام کر رہے ہوتے ہیں، مگر انہی اوقات میں بجلی بندش ہزاروں گھرانوں کیلئے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ شہری حلقوں کے مطابق ماتلی میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ ملا کر تقریباً 14 سے 16 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، تاہم عوام کا کہنا ہے کہ اگر مجموعی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ فوری کم کرنا ممکن نہیں تو کم از کم رات کے درمیانی اوقات میں ہونے والی بجلی بندش ختم کرکے شہریوں کو بنیادی ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رات کے ان اوقات میں بجلی بند ہونے سے بزرگ افراد، بیمار مریض، خواتین، بچے، طلبہ اور محنت کش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، جبکہ شدید گرمی اور حبس میں بجلی کی بندش نہ صرف آرام اور نیند کو متاثر کرتی ہے بلکہ اگلے دن کے معمولات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ شہریوں کے مطابق ایک شخص جو دن بھر محنت مزدوری، ملازمت یا کاروبار میں مصروف رہنے کے بعد گھر پہنچتا ہے، اگر اسے رات کے پرسکون اوقات میں بھی بجلی میسر نہ آئے تو اس کیلئے معمول کی زندگی گزارنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ طلبہ و طالبات بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ناکافی نیند اور گرمی کے باعث ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، جبکہ بیمار افراد اور بزرگ شہریوں کیلئے رات کے وقت بجلی کی بندش اضافی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حیسکو کی جانب سے مختلف علاقوں اور فیڈرز کے حوالے سے لوڈ مینجمنٹ اور بعض مقامات پر ریلیف سے متعلق اعلانات سامنے آتے رہتے ہیں، اس لیے ماتلی کے شہری فیڈرز کیلئے بھی خصوصی رعایت دی جانی چاہیے تاکہ شہری کم از کم رات کے ان حساس اوقات میں سکون سے آرام کر سکیں۔ شہریوں نے وفاقی حکومت، وزارتِ توانائی، حیسکو چیف اور حیسکو انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ماتلی کے شہری فیڈرز پر رات پونے دو بجے سے پونے چار بجے تک ہونے والی معمول کی لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، کیونکہ شہریوں کے مطابق یہی اقدام تین لاکھ سے زائد آبادی کیلئے سب سے بڑا ریلیف اور خوشخبری ثابت ہو سکتا ہے۔#

مزید خبریں

Back to top button