ماتلی،قیامت خیز گرمی میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دوہراعذاب

ماتلی(رپورٹ ایم آر گدی /جانو ڈاٹ کام) ماتلی میں درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچنے کے بعد شدید گرمی نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور روزمرہ معمولات محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے جس کے باعث شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور اسی دوران حیسکو واپڈا کی جانب سے بجلی کی فراہمی میں ایک ایسا طریقہ کار اختیار کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں جس کے تحت مختلف فیڈرز پر متعدد ٹرانسفارمرز کو بیک وقت بند کر کے پورے پورے علاقے بجلی سے محروم کر دیا جاتا ہے اور بعض اوقات دس سے پندرہ ٹرانسفارمرز سے منسلک علاقوں کی بجلی منقطع ہونے سے چار سے پانچ سو گھروں پر مشتمل آبادیاں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرتی ہیں جبکہ احسان شاہ کالونی کے رہائشیوں نے بتایا ہے کہ المرتضیٰ ہوٹل کے سامنے والے بجلی کے پول سے کنکشن اور جھمپرز ہٹائے جانے کے بعد علاقے کے تین ٹرانسفارمرز متاثر ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں پانچ سے چھ سو گھروں پر مشتمل آبادی شدید لوڈشیڈنگ کی زد میں آ گئی ہے اور شدید گرمی کے دوران بجلی کی طویل بندش نے بزرگوں خواتین اور بچوں کی مشکلات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جبکہ ہیٹ اسٹروک کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں اور دوسری جانب گرمی کی شدت اور بجلی کی بندش کے ساتھ ساتھ شام کے اوقات میں نافذ اسمارٹ لاک ڈاؤن نے کاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے کیونکہ دن کے وقت شدید گرمی کے باعث مارکیٹیں پہلے ہی غیر فعال رہتی ہیں اور شام میں جب خریدار خریداری کے لیے مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں تو آٹھ بجے کے قریب دکانیں بند ہونا شروع ہو جاتی ہیں جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے اور معاشی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی ہیں جبکہ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ بیک وقت شدید گرمی طویل لوڈشیڈنگ اور اسمارٹ لاک ڈاؤن نے ان کے لیے معاشی مشکلات پیدا کر دی ہیں اور کاروباری طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہے اور اس حوالے سے جب واپڈا کے متعلقہ ایس ڈی او سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا فون مسلسل بند رہا جس کے باعث سرکاری مؤقف حاصل نہیں ہو سکا جبکہ شہریوں اور تاجروں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور موسم کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی کی جائے اور تجارتی اوقات کار پر نظرثانی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور معاشی سرگرمیوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button