لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ، رخصتی نہ ہونے پر بھی بیوی حق مہر کی حقدار قرار

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے حق مہر سے متعلق ایک اہم اور نظیری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رخصتی نہ ہونے کے باوجود بیوی حق مہر کی حقدار ہوگی، جبکہ خلع کی صورت میں خاتون کو معجل حق مہر کا 75 فیصد حصہ ملے گا۔
ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے سائلہ مسماۃ ازکا آفرین کی آئینی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر کی حیثیت بھی حاصل ہوگی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر نکاح نامے میں حق مہر کے خانے میں "عند الطلب” درج ہو تو یہ فوری طور پر واجب الادا تصور کیا جائے گا اور اس کی ادائیگی شوہر کی قانونی ذمہ داری ہوگی۔
عدالت نے ماتحت عدالتوں کے حق مہر سے متعلق فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیلٹ کورٹ کا وہ فیصلہ بھی ختم کر دیا جس میں رخصتی نہ ہونے کی بنیاد پر خاتون کے حق مہر کا دعویٰ مسترد کیا گیا تھا۔
فیصلے کے مطابق فیملی کورٹ ایکٹ کے تحت اگر خاتون خلع حاصل کرتی ہے تو وہ معجل حق مہر کے 75 فیصد کی حقدار ہوگی، جبکہ 25 فیصد حق مہر شوہر کے حق میں چھوڑنا ہوگا۔
عدالت نے قرار دیا کہ خلع اور حق مہر سے متعلق معاملات کا فیصلہ قانون اور دستیاب شواہد کی روشنی میں کیا جانا چاہیے، اور صرف رخصتی نہ ہونے کی بنیاد پر خاتون کو حق مہر سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
قانونی ماہرین کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں حق مہر اور خلع سے متعلق مقدمات کے لیے اہم نظیر ثابت ہوگا۔



