لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق درخواست مسترد، درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ


لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹی، بے بنیاد، غیر مستند اور مبہم قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے اپنے 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار جوڈیشل ایکٹیوزم پینل نے متعلقہ قانونی فورمز سے رجوع کیے بغیر براہ راست ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جو کہ مناسب طریقہ کار کے خلاف ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ توانائی جیسے پیچیدہ معاملات کا حل عدالتی احکامات کے بجائے متعلقہ ریگولیٹری اداروں اور پالیسی سازی کے ذریعے نکالا جاتا ہے، اور ہائیکورٹ ریگولیٹر یا اپیلیٹ فورم کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ مفادِ عامہ کی درخواستوں میں ٹھوس شواہد اور قابل اعتماد حقائق کا ہونا ضروری ہے، جبکہ اس کیس میں پیش کیے گئے دلائل اور سرٹیفکیٹ غلط ثابت ہوئے۔
عدالت نے عدالتی وقت ضائع کرنے پر درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ یہ رقم لاہور ہائیکورٹ بار کی ڈسپنسری میں جمع کرائی جائے۔
مزید کہا گیا کہ ایسی درخواستوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہے تاکہ عدالتی نظام کا غلط استعمال نہ ہو۔ تاہم جرمانے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 30 روز کا حکمِ امتناع بھی جاری کیا گیا ہے۔