پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے کمشنر کو حکومتی مرضی سے ہٹانے کا قانون کالعدم

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے کمشنر کو حکومت کی مرضی سے عہدے سے ہٹانے سے متعلق قانونی شق کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس راحیل کامران شیخ نے سابق کمشنر عظیم الدین زاہد کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ خودمختار ریگولیٹری ادارے کے کمشنر کی مقررہ مدت حکومت کی غیر محدود صوابدید پر ختم نہیں کی جاسکتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن عام محکمانہ دفتر نہیں بلکہ ایک خودمختار ریگولیٹری ادارہ ہے، جسے صحت کی سہولیات کے معیار کی نگرانی، لائسنس جاری یا منسوخ کرنے، معائنہ، تحقیقات اور جرمانوں سمیت وسیع اختیارات حاصل ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ریگولیٹری ادارے کو سرکاری اداروں کو بھی ریگولیٹ کرنا ہو تو کمشنرز کو کسی بھی وقت اور بغیر قابلِ تعین وجہ کے ہٹانے کا اختیار ادارے کی آزادی متاثر کرسکتا ہے۔ کمشنر کی مقررہ مدت کا تحفظ ذاتی استحقاق نہیں بلکہ ادارے کی خودمختاری کے لیے قانونی حفاظتی انتظام ہے۔

عدالت کے مطابق کمشنر کی مقررہ تین سالہ مدت قبل از وقت ختم کرنے کے لیے بدعنوانی، نااہلی، مفادات کے ٹکراؤ، فرائض کی انجام دہی میں ناکامی یا کسی دیگر قابلِ تعین قانونی جواز کا ہونا ضروری ہوسکتا ہے، تاہم متنازع ترمیم میں ایسا کوئی معیار یا طریقہ کار موجود نہیں تھا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ حکومت کو برطرفی کی وجہ بتانے، متعلقہ کمشنر کو مؤقف پیش کرنے کا موقع دینے یا فیصلے کی وجوہات ریکارڈ کرنے کا پابند نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 4 اور 10 اے کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے شامل سیکشن 6 کی ذیلی دفعہ 1 اے کو آئین کے آرٹیکل 4 اور 10 اے سے متصادم قرار دیتے ہوئے آرٹیکل 8 کے تحت اس حد تک کالعدم اور بے اثر قرار دے دیا۔

عدالت نے سابق کمشنر عظیم الدین زاہد کی 18 جولائی 2024 کی برطرفی کے نوٹیفکیشن کو بھی برقرار رکھنے سے انکار کردیا، تاہم قرار دیا کہ ان کی اصل تین سالہ مدت دورانِ مقدمہ ختم ہوچکی ہے، اس لیے اب بحالی کا مؤثر حکم جاری نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیکشن 6(1 اے) کی آئینی حیثیت سے متعلق فیصلہ قانون کے مطابق نافذالعمل رہے گا۔

مزید خبریں

Back to top button