لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، قتل کیس میں عمر قید پانے والا ملزم بری

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم شاہ محمد کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ملزم کو بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزام شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر، گواہوں کے بیانات اور استغاثہ کی مجموعی کہانی میں متعدد اہم تضادات موجود ہیں، جن کے باعث مقدمہ مشکوک ہو گیا۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ شناخت پریڈ قانونی تقاضوں کے مطابق قابل اعتماد ثابت نہیں ہوئی، کیونکہ گواہوں نے ایف آئی آر میں ملزمان کی شناخت یا حلیہ بیان نہیں کیا تھا، جس کے بعد کی جانے والی شناخت پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ مقدمے میں غیر معمولی تاخیر، شواہد میں خامیوں اور تفتیشی نقائص نے استغاثہ کے کیس پر سنجیدہ شکوک پیدا کیے۔

عدالت نے فرانزک شواہد اور ملزم سے منسوب اسلحے کی برآمدگی کو بھی ناقابل اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سزا کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے فیصلے میں آبزرویشن دی کہ شک کا فائدہ ملزم کا قانونی حق ہے، کوئی رعایت نہیں۔ فوجداری مقدمات میں سزا اسی وقت برقرار رکھی جا سکتی ہے جب استغاثہ الزام کو ہر قسم کے معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ملزم شاہ محمد کو فوری طور پر رہا کیا جائے، تاہم اگر وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب ہو تو اس حکم کا اطلاق نہیں ہوگا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اسی مقدمے میں مدعی کی جانب سے سزا میں اضافے کے لیے دائر نظرثانی درخواست بھی مسترد کر دی اور قرار دیا کہ جب بنیادی الزام ہی ثابت نہ ہو تو سزا بڑھانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

مزید خبریں

Back to top button