کے پی اسمبلی میں بڑا تنازع، کورم کی کمی کے باوجود پنجاب پولیس کے خلاف قرارداد منظور

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے) خیبرپختونخوا اسمبلی میں کورم کی کمی کی نشاندہی کے باوجود پنجاب پولیس کے خلاف مذمتی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی گئی، اپوزیشن نے قرارداد کی منظوری کے طریقہ کار پر شدید اعتراض اٹھا دیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس مسند نشین انور خان کی زیرصدارت ہوا، جہاں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے وزیراعلیٰ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے خلاف مذمتی قرارداد ایوان میں پیش کی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان وزیراعلیٰ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتا ہے۔ قرارداد کے مطابق وزیراعلیٰ کو مبینہ طور پر زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھا کر لے جایا گیا، انہیں پروٹوکول سے الگ کیا گیا اور بغیر سیکیورٹی کے چھوڑ دیا گیا۔
قرارداد میں پنجاب پولیس کے مبینہ اقدام کو انتہائی سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ منتخب وزیراعلیٰ کو اس انداز میں روکنا آئین کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ واقعے کے ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کرنے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، تاہم کسی بھی منتخب نمائندے کی سیکیورٹی کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
کورم کی نشاندہی، پھر بھی قرارداد پر ووٹنگ
قرارداد پیش کیے جانے کے دوران مسلم لیگ ن کے رکن سریش کمار نے متعدد مرتبہ ایوان میں کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی اور مؤقف اختیار کیا کہ کورم کی کمی کے باوجود قرارداد منظور کی جارہی ہے۔تاہم مسند نشین انور خان نے اجلاس کی کارروائی جاری رکھی اور قرارداد پر رائے شماری کرائی گئی، جو اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود کثرتِ رائے سے منظور ہوگئی۔بعدازاں اپوزیشن کے اظہار خیال کے دوران حکومتی رکن میاں شرافت نے بھی کورم کی نشاندہی کردی۔ مسند نشین نے گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی، تاہم مطلوبہ کورم پورا نہ ہوسکا۔کورم پورا نہ ہونے کے باعث خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 18 ستمبر تک ملتوی کردیا گیا۔



