آئین سے کھلواڑ اور اشرافیہ کی اقتدار کی خواہش نے ملک تباہ کردیا، خواجہ سعد رفیق

لاہور (جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ آئین، قانون اور نظامِ عدل و سیاست سے بار بار کھلواڑ نے پاکستان کو مسائلستان بنا دیا ہے، جبکہ اشرافیہ اور مقتدرہ کی ارتکازِ اقتدار کی خواہش نے ملک کو معاشی بدحالی، لاقانونیت اور انتہاپسندی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر اپنے بیان ’’آوازِ دروں‘‘ میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آئین اور قانون کی بار بار بے حرمتی کے نتیجے میں گورننس کا بحران پیدا ہوا۔ ان کے مطابق اقربا پروری، بددیانتی، خود پسندی، انا اور خبطِ عظمت جیسے رویوں نے بھی ملکی مسائل میں اضافہ کیا۔
سابق وفاقی وزیر نے مارشل لا مائنڈ سیٹ رکھنے والوں، اقتدار پرست سیاستدانوں، نظریۂ ضرورت والی عدلیہ، مذہبی انتہاپسندی پھیلانے والے علما، شاہانہ مزاج رکھنے والی بیوروکریسی اور بدلتے حالات کے ساتھ رخ اختیار کرنے والے میڈیا کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اپنے نظریات، جمہوری اصولوں اور عوام سے کیے گئے وعدوں سے بار بار روگردانی کرنے والی سیاسی قوتیں عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا چکی ہیں، جس کے باعث اب ان کے صرف سخت گیر اور غیر مشروط حامی ہی ان پر اعتماد کرتے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے موجودہ صورتحال کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ حالات خدانخواستہ سب کے قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہوگا اور اصلاحِ احوال کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، سیاسی انتشار، معاشی بدحالی اور بڑھتی ہوئی ناانصافی کا مقابلہ صرف آئین و قانون کی حکمرانی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اپنے آپ کو ناگزیر سمجھنا اور اپنے نظریات منوانے کے لیے ہر قدم اٹھانا مزید مشکلات اور پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے۔
سابق وزیر ریلوے نے قومی مسائل کے حل کے لیے مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مخالفانہ مؤقف سننا، ملک کو درپیش سلگتے مسائل پر کھلے دل اور دلیل کے ساتھ بات کرنا اور تنازعات کے حل کی نتیجہ خیز کوشش کرنا سب کی اجتماعی قومی ذمہ داری ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ شاید یہ کام اب سول سوسائٹی کو کرنا ہوگا۔ تعلیم یافتہ اور باشعور افراد کو جماعتی اور گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اپنے اپنے حلقۂ اثر میں تھنکرز فورمز اور اصلاحاتی گروپس تشکیل دینے چاہییں، جہاں مکالمے کے ذریعے رائے قائم کی جائے اور بلاخوف و تعصب اپنی سوچ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔



