وائٹ ہاؤس میں سعودی وزیر دفاع اور امریکی نائب صدر کی ہنگامی ملاقات، ایران سے کشیدگی پر اہم پیغام

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میں ایران نواز گروپوں کے خلاف امریکا اور سعودی عرب کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ہنگامی ملاقات کی، جس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور ایران سے متعلق اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے بجائے تناؤ میں کمی اور سفارتی حل کی پالیسی پر قائم ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کا بنیادی مقصد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال سے متعلق خصوصی پیغام امریکی نائب صدر تک پہنچانا تھا۔

ذرائع کے مطابق سعودی وزیر دفاع نے جے ڈی وینس کو بتایا کہ عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات پر حملے "ریڈ لائن” عبور کرنے کے مترادف تھے، جس کے بعد سعودی عرب کے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔

ملاقات کے دوران یہ مؤقف بھی سامنے رکھا گیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے حامی ہیں، جبکہ سعودی عرب سمجھتا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے کشیدگی کم کرنا زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز حکمت عملی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی نائب صدر تک یہ واضح پیغام پہنچانے کی ہدایت کی تھی کہ عراق میں کی گئی کارروائیوں کا مقصد جنگ کو وسعت دینا نہیں بلکہ سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اظہار تھا۔

مزید خبریں

Back to top button