جمہوریت کے شہیدوں کا شہر خیر پور ناتھن شاہ لاوارث ہوگیا

دادو(عابد ببر نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے )خیرپور ناتھن شاہ، وہ شہر جسے کبھی دادو ضلع کا دل اورجمہوریت کے شہیدوں کا شہر کہا جاتا ہے آج بدحالی، گندگی اور کرپشن کی داستان بن چکا ہے۔ہر ماہ 2کروڑ 85لاکھ روپے کا بجٹ میونسپل کمیٹی کو ملنے کے باوجود شہر کے 11وارڈز کچرا کنڈیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔گلی کوچوں میں گندا پانی جمع ہے، نالے ابل رہے ہیں اور شہر میں صفائی کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
بلدیاتی نمائندوں کی مدت ختم ہونے کو ہے مگر شہر کی قسمت نہیں بدلی
خیر پور ناتھن شاہ میں نکاسی آب کا کوئی انتظام نہیں، واٹر سپلائی سکیموں کے باوجود پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔شہری میلوں دور سے پانی بھرنے یا پیسوں کے عوض پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔رات کے وقت پورا شہر تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے کیونکہ سٹریٹ لائٹس برسوں سے خراب ہیں۔ اسی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چوری، رہزنی اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔جانو ڈاٹ پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا میونسپل کمیٹی کے افسر صرف تنخواہیں وصول کرتے ہیں،مگر شہر کی حالت سدھارنے کیلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔
مگر سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے بجٹ کے باوجود یہ شہر اب بھی کھنڈرات کا منظر کیوں پیش کر رہا ہے؟
2 لاکھ آبادی پر مشتمل خیرپور ناتھن شاہ میں نہ کوئی پبلک پارک ہے ارونہ ہی کھیل کا میدان ہے۔یہاں کے قبرستان میں دیوار ہے اور نہ ہی درواز ہ ہے ،اسی وجہ سے قبرستان نشئیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔شہری اپنی مدد آپ کے تحت نالوں کی صفائی کر رہے ہیں۔
کیاکروڑوں روپے کا یہ بجٹ صرف کاغذوں میں خرچ دکھایا جا رہا ہے؟
شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہےکہ میونسپل کمیٹی کے فنڈز کا فوری آڈٹ کیا جائےتاکہ پتہ چل سکے آخر 2کروڑ 85لاکھ روپے ماہانہ کہاں غائب ہو رہے ہیں۔
خیرپور ناتھن شاہ کے عوام آج بھی صاف پانی، صفائی اور روشنی جیسی بنیادی سہولیات کے منتظر ہیں،مگر میونسپل کمیٹی کی خاموشی نے ان کی امیدوں پر مٹی ڈال دی ہے۔



