سندھ کے وسائل اور شناخت پر حملے قبول نہیں، جسقم رہنماؤں کا اعلان

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)جسقم رہنماؤں ڈاکٹر نیاز کالانی اور پنھل ساریو کی بدین پریس کلب میں پریس کانفرنس ڈاکٹر سارنگ میمن کے قتل سندھ کے مسائل اور امن و امان پر تشویش کا اظہار جسقم رہنماؤں ڈاکٹر نیاز کالانی کا مرکزی رہنماؤں پھنل ساریو ، تنویر کاتیار اور دیگر کے ہمراہ بدین کا دورہ ،بدین پریس کلب میں پریس کانفرنس کے علاوہ کراچی میں قتل ہونے والے ڈاکٹر سارنگ میمن کے قتل پر لواحقین سے ملاقات تعزیت اور فاتحہ کی ، جسقم کے رہنماؤں نے سائیں جی ایم سید کی 31ویں برسی کی تیاریوں کے سلسلے میں سندھ کی قوم پرست ، سیاسی، سماجی شخصیات اور قومی کارکنوں سے ملاقات اور عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں صورتحال پر جسقم کے سربراہ ڈاکٹر نیاز کالانی نے مرکزی آرگنائزر پنہل ساریو، جساف کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری تنویر کاتیار، حیدرآباد کے ضلعی صدر لیاقت ملاح، بدین کے ضلعی صدر مختار بوزدار، جاوید چانگ، امیر بخش سومرو، صوفی شاہجہان ملاح سمیت دیگر کارکنان کے ہمراہ بدین پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو درپیش سیاسی، سماجی اور قومی مسائل کا واحد حل سائیں جی ایم سید کے فکر، قومی شعور اور جدوجہد میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وسائل، زمینوں، دریاؤں اور شناخت پر ہونے والے حملوں کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی بقا، خودمختاری اور قومی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ دریں اثناء، جسقم کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی نے کراچی میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور دہشت گردی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں دہشت گردی کا راج قائم ہے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے شہید ڈاکٹر سارنگ میمن کے ورثاء سے تعزیت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں خصوصاً سندھی افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس سے قبل بدین پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سائیں جی ایم سید نے پوری زندگی سندھ کے عوام کی آزادی اور خودمختاری کے لیے جدوجہد کی اور ان کا انتقال بھی نظر بندی کے دوران ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ 25 اپریل کو سائیں جی ایم سید کی برسی سن میں منائی جائے گی جس میں سندھ بھر سے کارکنان اور چاہنے والے شرکت کریں گے۔ ڈاکٹر نیاز کالانی کا کہنا تھا کہ وہ جسقم کو آئین کے مطابق چلانا چاہتے تھے لیکن 2017 سے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جس کے باعث وہ سائیں جی ایم سید کے نظریے کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ میں بڑھتے ہوئے سماجی مسائل جیسے کاروکاری اور دیگر برائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حل کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ قوم پرست جماعتوں میں گروپ بندی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس طرح مذاہب میں مختلف فرقے ہوتے ہیں، اسی طرح سیاسی جماعتوں میں بھی گروپس ہوتے ہیں۔ اس موقع پر پھنل ساریو اور دیگر رہنماؤں نے بھی سندھ کے مسائل، امن و امان کی صورتحال اور سیاسی حالات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مزید خبریں

Back to top button