سندہ سندھی قوم کا تاریخی اور تھذیبی وطن اور سندہ کی تقسیم ایک سازش

تحریر : جاوید لطیف میمن
سن 1843 میں انگریزوں کے قبضے سے پہلے سندھ ایک آزاد مسلم ریاست تھی۔ اس وقت سندہ کہ جغرافیائی حیثیت کی بات کریں تو
1783 سے 1843 تک سندھ پر تالپور خاندان کی حکومت تھی اور اس وقت سندہ ایک آزاد خود مختار ریاست کی حیثیت رکھتا تھا اس وقت سندہ کا دارالحکومت: حیدرآباد تھا سندھ ایک خودمختار ریاست تھی، نہ کے برطانوی ہند کا حصہ تھی جس کی حدود ریاست بہاولپور اور پنجاب سے ملتی تھی جبکہ سندہ کے مشرق میں تھر کا صحرا اور راجپوتانہ کی ریاستیں جبکہ جنوب میں بحیرہ عرب جبکہ مغرب میں بلوچستان کے علاقے قلات اور لسبیلہ کی حدود تھیں سندہ کا کل رقبہ تقریباً موجودہ سندھ جتنا ہی تھا – 1 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر تھا جبکہ قدرتی جغرافیہ میں دریائے سندھ پر اس وقت سے آج تک سندہ کی زراعت، تجارت اور نقل و حمل سب دریا پر منحصر ہے سندہ کی ڈیلٹا اور ساحل کراچی اور کیٹی بندر کے ذریعے عرب، عمان اور ہندوستان سے سمندری تجارت ہوتی تھی سندہ کی زراعت سکھر، لاڑکانہ، حیدرآباد اور ٹھٹھہ کے آس پاس نہری زراعت جبکہ تھر اور کیرتھر جیسے پہاڑی علاقے آباد تھے سندہ کی معاشی اہمیت میں تجارت مراکز میں کراچی، ٹھٹھہ اور شکارپور تجارتی مرکز تھے۔ شکارپور کے ہندو تاجروں کی وسطی ایشیا تک تجارت تھی جو سندہ کو معاشی طور مستحکم رکھنے کا ایک ذریعہ تھی جبکہ سندہ کی سندھی سرکاری اور عوامی زبان تھی اس وقت سندہ کی
آبادی اندازاً 20-25 لاکھ تھی جس میں اکثریت سندھی مسلمانوں کی تھی جبکہ تاجر برادری میں سندھی ھندو کا کردار بھی رہا 17 فروری 1843 کو میانی کی جنگ میں سر چارلس نیپئر نے تالپوروں کو شکست دی جس کے بعد سندھ کو برطانوی ہند میں شامل کر کے بمبئی پریزیڈنسی کا ایک ڈویژن بنا دیا گیا بمبئی پریزیڈنسی سے پہلے سندھ 1783 سے 1843 تک تالپوروں کے دور میں ایک آزاد، خودمختار مسلم ریاست تھا۔ جس کا دارالحکومت حیدرآباد تھا اور معیشت دریائے سندھ اور سمندری تجارت پر چلتی تھی 1843 سے 1936 تک
انگریزوں نے 1843 میں سندھ فتح کرنے کے بعد اسے بمبئی پریزیڈنسی کا ایک ڈویژن بنا دیا تھا اس وقت سندھ کا کوئی الگ گورنر یا اسمبلی نہیں تھی سندہ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کرنے میں سندھی رہنماوں جی ایم سید اور اللہ بخش سومرو ایک نے لمبی تحریک چلائی جس کے بعد 1 اپریل 1936 کو برطانوی حکومت نے Government of India Act 1935 کے تحت سندھ کو بمبئی سے الگ کرکے برطانوی ہند کا 11واں صوبہ بنایا اور اس کا پہلا گورنر سر لیسلی ولسن جبکہ پہلا وزیر اعلیٰ سر غلام حسین ہدایت اللہ کو بنایا گیا جس کے بعد حیدرآباد کو سندہ کا پہلا دارالحکومت بنایا گیا جس کے بعد کراچی کو سندہ کا دارالحکومت بناکر پہلی سندھ اسمبلی کراچی میں قائم کی گئی 1936 سے 1947 تک سندھ ایک مکمل خودمختار صوبہ رہا جو بعد 1943 میں سندہ اسمبلی میں ایک اکثریتی قرارداد کے ذریعہ 1947 میں مسلمانوں اکثریت پر بننے والے ملک پاکستان میں شامل ہوا اوپر دی جانے والی تاریخ کے مطابق ماضی میں سندہ اپنی ایک تاریخی اور جغرافیائی حیثیت رکھنے والا خطہ تھا 23 مارچ 1940 کو لاہور میں منظور ہونے والی قرارداد میں "پاکستان” کا لفظ استعمال نہیں ہوا تھا۔ اس میں جو فارمولا دیا گیا تھا جس کے مطابق قرارداد میں "آزاد ریاستیں” – Sovereign States* کا ذکر شامل ہے۔ یعنی مسلم اکثریتی علاقے متحد ہو کر ایک ملک وجود میں لائیں گے جس میں شامل ہونے والے صوبے خودمختار آزاد ریاستیں بنے گی ناکہ وفاق کے ماتحت کام کریں گے مرکزی حکومت کے پاس صرف دفاع، خارجہ امور اور مواصلات اور خزانہ جیسے محمکے ہونگے 1940 میں کن صوبوں/ریاستوں کی بات تھی قرارداد می شمال مغربی زون
1. سندھ صوبہ
2. بلوچستان صوبہ
3. سرحد NWFP – صوبہ
4. پنجاب – صوبہ
5. کشمیر – ریاست
مشرقی زون بنگال – صوبہ شامل ہونگے یعنی قرارداد کے مطابق یہ سب آزاد ریاستیں بنتی ہیں نہ کہ ایک مرکز کے ماتحت، 1940 کی قرارداد کا ایک سے زیادہ آزاد ریاستیں” والا فارمولا بعد میں بدل گیا 1946 کے کابینہ مشن پلان اور پھر 3 جون 1947 کے پلان میں فیصلہ ہوا کہ مسلم اکثریتی علاقے مل کر ایک ہی ملک "پاکستان” بنائیں گے، جس اس لیے سندھ، پنجاب، سرحد، بلوچستان اور بنگال 1947 میں خودمختار آزاد ریاستوں کے تحت آزاد خودمختار ریاستیں ہونگی مرکز کے ماتحت سادہ الفاظ میں 1940 کی قرارداد کا مقصد "کنفیڈریشن” جس کو سادہ لفظوں میں مکمل اور بااختیار صوبے کہا جاتا ہے پاکستان میں شامل ہونگے جب 1940 کی قرارداد اور پھر 1943 کی قرارداد کے مطابق ملک میں شامل ہونے والے صوبے آزاد اور خدمختار ریاستیں ہونگی تقسیم سے پہلے برطانوی حکومت نے کہا تھا کہ جو صوبے تقسیم کے دائرے میں نہیں آتے وہ فیصلہ کریں کہ ہندوستان میں رہنا ہے یا پاکستان میں جس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا اور اکثریتی رائے کی بنیاد پر ایک قرارداد پاس ہوئی یعنی اکثریت نے پاکستان سے الحاق کے حق میں ووٹ دیا اس قرارداد کو اللہ بخش سومرو، جی ایم سید، ایم اے کھوڑو جیسے رہنماؤں نے سپورٹ کیا قانونی اور آئینی طور پر 1947 میں سندھ اسمبلی نے باقاعدہ قرارداد پاس کر کے پاکستان سے اپنی مرضی سے الحاق کیا تھا مگر سندہ کی تقسیم کی بات جب بھی سامنے آتی ہے تو سندھ کی عوام اس کی شدید مخالفت کرتی ہے۔ جس کی بڑی وجوہات یہ ہیں تاریخی اور ثقافتی شناخت ختم ہونے کا خدشہ "ایک سندھ، ایک قوم” کے نظریہ ٹوٹنا سندھیوں کا ماننا ہے کہ موہنجو داڑو سے لے کر شاہ عبداللطیف بھٹائی تک سندھ کی ایک ہی تاریخ، زبان، صوفی روایت اور دریا ہے اگر کراچی، حیدرآباد، سکھر کو الگ کر دیا گیا تو سندھی ثقافت اور زبان کمزور ہو جائے گی دریائے سندھ اور پانی کا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا، ڈیموگرافی بدل جائے گی اس لیے سندھی قوم سمجھتی ہے سندہ کی تقسیم ایک سازش ہے سندہ اپنی مرضی سے اس ملک میں شامل ہوا تھا جس کا قطعی یہ مقصد نھیں تھا کے سندہ کی تقسیم کی بات کبھی کی جائے گی سندھی سمجھتے ھیں کے پاکستان کی سوکالڈ غیر سندھی میڈیا سندہ کو توڑنے کی سازش کرنے والوں کی آلاکار بنی ہوئے ہے سندہ کے خلاف ایک سازش ہو رہی ہے سندھی رہنماؤں اور عوام کا کہنا ہے سندہ کی تقسیم سندھی قوم کے تاریخی وطن کی تقسیم کرکے پاکستان کی آزادی کے وقت ھندستان سے منتقل ہونے والے پناہ گیر جو سندہ میں آکر آباد ہوئے تھے اور جن کو سندھی قوم نے دل سے ویلکم کیا تھا ان کو مہاجر قوم کا درجہ دیکر سندہ کی تقسیم کا مطالبہ کرک ان کو خوش کرنا ہے جس کو ایک سازش کے تحت پروان چڑھایا جا رہا ہے تاکہ سندھی قوم اور ان کی ثقافت کو ختم کیا جاسکے سندہ سے سول ایوئیشن اتھارٹی، پاکستان ائرپورٹ اتھارٹی، سمندر، گیس آئل کے کنویں معدنی ذخائر، قدرتی وسائل چھین کر ان پر وفاق کے نام پر قبضہ کیا جا سکے سندھ کی عوام کا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ تقسیم سے سندھی قوم کے، دریا اور وسائل تقسیم ہو جائیں گے اس لیے وہ "انتظامی یونٹ” کے بجائے "متحد سندہ” چاہتے ہیں اگر سندہ کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی تو بلوچستان اور کے پی اور کشمیر کی طرح سندہ بھر میں ان ریسٹ ہوسکتا ہے حالات خراب ہوسکتے ہیں کیونکہ سندہ کی عوام کی جانب سے مزاحمتوں کا تسلسل جاری ہے جس میں خاص طور پر بدترین مارشلا کے ادوار شامل ہیں جبکہ کچھ عرصہ پہلے نہری نظام پر پرامن مزاحمت سندہ میں ماضی کی مزاحمتوں کا ایک نمونہ ہے مگر سندہ جسے سندھی اپنی دھرتی ماں یا اپنا ایک تاریخی وطن سمجھتے ہیں ھزاروں سالوں پر محیط اس تھذیب کی چھیڑ چھاڑ یا سندہ کی جغرافیائی حدود سے چھیڑ چھاڑ ایک نہ رکنے والی مزاحمت کا منظر پیش کرسکتی ہے اور پھر کیا ہوگا کتنا نقصان ہوگا پاکستان میں قومیت کی بنیاد پر جو لڑائیاں ہوسکتی ہیں جس کا کوئی اندازہ لگایا نھیں جاسکتا اور نتیجے میں ملک میں انتشار کے سوا کچھ نظر نھیں آتا بھلے آپ اس دوران میڈیا پر پابندیاں لگا لیں یا سوشل، ڈجیٹل میڈیا پر آپ کے اندازے کہیں غلط نہ ثابت ہوجائیں یاد رہے کے سندہ کی عوام یہ سمجتی ہے کے سندھیوں کو جان بوجھ کر دیوار سے لگایا جا رہا ہے



