اسرائیل کی ایران کو نئی وارننگ، آئندہ 48 گھنٹوں میں جنگ دوبارہ بھڑکنے کا خدشہ ظاہر

تل ابیب(ویب ڈیسک) اسرائیل کے وزیر دفاع نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی دوبارہ کھلی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے اور یہ صورتحال آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر بھی پیدا ہونے کا امکان ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر اسرائیل کو اپنی قومی سلامتی کے خلاف کوئی سنگین خطرہ محسوس ہوا تو وہ کارروائی کے لیے کسی بیرونی منظوری یا اجازت کا انتظار نہیں کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اپنے دفاع سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر بروقت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ جنگ بندی کے استحکام اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے بھی مختلف سطحوں پر رابطے کیے جا رہے ہیں۔

دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کا یہ مؤقف مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو مزید حساس بنا سکتا ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کئی بار براہِ راست فوجی کارروائیوں تک پہنچ چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز خطے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو مشرق وسطیٰ ایک بار پھر وسیع پیمانے پر فوجی تصادم کی جانب بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان پر ایران یا امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مزید خبریں

Back to top button