سڑکیں بند کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں،پی ٹی آئی لانگ مارچ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق اور سیاسی احتجاج کے حوالے سے اہم آبزرویشنز دی گئی ہیں۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے 14 ستمبر کو فیصلہ سنایا تھا، جس کی تفصیلات اب جاری کی گئی ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسی سرگرمی جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں، آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی اور ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدیدار کو اسلام آباد کی سڑکوں، شاہراہوں یا داخلی و خارجی راستوں پر قبضہ کرنے یا شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر کسی سرکاری عہدیدار کے باعث شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں تو اسے حلف کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جبکہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ذمہ دار سرکاری افراد کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

فیصلے میں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اسلام آباد مارچ یا احتجاج کے لیے سرکاری فنڈز، گاڑیاں، مشینری یا دیگر سرکاری وسائل استعمال نہ کیے جائیں۔ سرکاری افسران کو بھی ماتحت اہلکاروں کو سیاسی احتجاج میں شامل ہونے پر مجبور کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں پی ٹی آئی کی سابقہ یقین دہانیوں اور عدالتی ہدایات کا بھی حوالہ دیا اور قرار دیا کہ یقین دہانیوں اور عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ فیصلے میں نومبر 2024 کے احتجاج کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button