آبنائے ہرمز سے خلیج تک کشیدگی میں اضافہ، ایران نے امریکہ کے ساتھ فوجی جھڑپوں کی تفصیلات جاری کر دیں


تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) نے امریکہ کے ساتھ حالیہ فوجی جھڑپوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کشیدگی کا آغاز آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی تیل بردار جہاز پر امریکی حملے سے ہوا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی کارروائی کے نتیجے میں ایرانی آئل ٹینکر کے انجن روم کو نقصان پہنچا، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک امریکی اور ایک اسرائیلی بحری جہاز کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔
آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے بعد امریکی افواج نے جزیرہ قشم کے جنوب میں واقع ایک ایرانی مواصلاتی ٹاور پر حملہ کیا، جس کے ردعمل میں ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
انقلابی گارڈز کے مطابق ایرانی حملوں میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹرز اور خطے کے ایک ملک میں موجود ہیلی کاپٹروں کو بھی ہدف بنایا گیا۔ ایران نے ان کارروائیوں کو اپنے دفاع اور جوابی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔