امریکا اور ایران میں جنگ شدت اختیار کر گئی، ایران کے بحرین، کویت اور اردن پر حملے، امریکی کارروائیاں مزید گہری

تہران / واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایران نے آج صبح بحرین، کویت اور اردن کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ اس سے قبل امریکا نے ایران کے اندر مزید گہرائی تک فوجی کارروائیاں کرتے ہوئے بحری ناکہ بندی بھی سخت کر دی۔
ایرانی فوج کے مطابق اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جن میں مواصلاتی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات شامل تھیں۔ دوسری جانب اردن کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران سے آنے والے آٹھ ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کویت کے علی السالم ایئر بیس پر امریکی ریڈار سسٹم اور امریکی فوجیوں کے اجتماع کو بھی ہدف بنایا، تاہم کویت کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے روک لیا۔
بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ یہ حملے ایران بھر میں امریکی فضائی کارروائیوں کے بعد کیے گئے، جن میں تہران کے گردونواح سمیت متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمانپور کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں 35 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 300 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی حکام نے پہلی بار مجموعی جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جس کے جواب میں امریکی کارروائیاں ایران کے شمالی علاقوں، تہران اور صوبہ سمنان تک پھیل گئیں، جہاں بیلسٹک میزائل اور خلائی پروگرام سے متعلق تنصیبات موجود ہیں۔
سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے گریٹر تنب جزیرے پر ساحلی دفاعی نظام اور کروز میزائل لانچ سائٹس کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اہواز، بندر عباس، کنارک، سیریک اور قشم کے قریب بھی حملے ہوئے۔ اہواز میں ایک ہسپتال کے قریب دھماکے کے بعد بچوں کے کینسر وارڈ کو عارضی طور پر خالی کرایا گیا۔
امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی مزید سخت کرتے ہوئے ایک تیل بردار جہاز کو ناکارہ بنانے اور دو دیگر جہازوں کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے، جو ایرانی بندرگاہوں کی جانب جا رہے تھے۔
ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز بند کر دی تھی، جس کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق امریکا مذاکراتی معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا اور طاقت کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے بھی خبردار کیا کہ جب تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، خطے سے تیل اور گیس کی برآمدات خطرے میں رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ "توانائی کی برآمد یا تو سب کے لیے ہوگی یا کسی کے لیے نہیں۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب بھی مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کے بقول، "انہیں ہمارے اقدامات پسند نہیں، لیکن وہ سمجھوتہ چاہتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ معاہدہ ہوتا ہے یا معاملہ کسی اور رخ پر جاتا ہے۔”
صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے 2024 سے قید ایک امریکی شہری کو رہا کر دیا ہے، جسے انہوں نے نیک نیتی کا اشارہ قرار دیا۔



