ایران اور امریکا ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے،معاہدے کے14نکات سامنے آگئے

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کا مسودہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران کو مالی ریلیف اور تہران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم سمیت14نکات شامل ہیں۔
سی این این کے مطابق 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت ابھی سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئی، تاہم اس کی ایک کاپی ایک امریکی عہدیدار نے فراہم کی۔ فرانس میں ہونے والے جی-7 سربراہی اجلاس میں دستاویز کا جائزہ لینے والے ایک سفارتکار اور مذاکرات سے آگاہ دو دیگر سفارتی ذرائع نے بھی اس کے مندرجات کی تصدیق کی۔
مسودے کے مطابق امریکا ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دے گا جبکہ ایران مستقبل کے جوہری مذاکرات میں طے شدہ شرائط پوری کرنے پر300ارب ڈالر کے ترقیاتی فنڈ تک رسائی حاصل کرسکے گا۔دستاویز میں ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے مستقبل کے بارے میں کوئی تفصیل شامل نہیں۔
امریکی عہدیدار کے مطابق یہ وہی متن ہے جس پر اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ڈیجیٹل دستخط کیے تھے۔مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط جمعہ کو متوقع ہیں، جس کے بعد حتمی معاہدے کی شرائط طے کرنے کے لیے60روزہ مذاکراتی مدت شروع ہو جائے گی۔
مفاہمتی یادداشت کے 14 نکات
1۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ موجودہ جنگ کے تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی نہ کرنے، طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ حتمی معاہدہ اس شق اور دیگر تمام شقوں کی توثیق کرے گا۔
2۔ ایران اور امریکا ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔
3۔ دونوں ممالک زیادہ سے زیادہ 60 روز کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کریں گے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہوگی۔
4۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، ایران کے خلاف کسی بھی رکاوٹ یا مداخلت کو روکے گا اور 30 روز کے اندر بحری آمدورفت کو مکمل طور پر بحال کرے گا۔ جہازوں کی آمدورفت ایران کی جنگ سے قبل کی سطح کے مطابق ہوگی۔ امریکا حتمی معاہدے کے بعد 30 روز کے اندر اپنے فوجی دستے اردگرد کے علاقوں سے واپس بلائے گا۔
5۔ ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد اقدامات کرے گا تاکہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی آمدورفت 30 روز کے اندر جنگ سے قبل کی سطح پر بحال ہو سکے، جبکہ تکنیکی رکاوٹوں کے خاتمے اور بارودی سرنگوں کی صفائی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
6۔ امریکا اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی بحالی اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ تشکیل دے گا، جس کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی مالی معاونت یقینی بنائی جائے گی۔ اس منصوبے کے نفاذ کا طریقہ کار حتمی معاہدے کے تحت 60 روز میں تیار کیا جائے گا۔
7۔ امریکا حتمی معاہدے کے تحت طے شدہ شیڈول کے مطابق ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں، اور تمام یکطرفہ امریکی بنیادی اور ثانوی پابندیاں شامل ہیں۔
8۔ ایران اپنے اس مؤقف کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ ایران اور امریکا اس بات پر متفق ہیں کہ افزودہ مواد اور دیگر تمام جوہری امور، بشمول ایران کی جوہری ضروریات، کو حتمی معاہدے میں مناسب انداز میں حل کیا جائے گا۔ حتمی معاہدہ اس شق کی توثیق کرے گا۔
9۔ حتمی معاہدے تک موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی۔ ایران اپنے جوہری پروگرام میں موجودہ حیثیت برقرار رکھے گا جبکہ امریکا ایران پر نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور نہ ہی خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرے گا۔
10۔ امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد اور پابندیوں کے خاتمے تک امریکی محکمہ خزانہ کے ذریعے ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان سے متعلق تمام خدمات، بشمول بینکاری، انشورنس اور ٹرانسپورٹ، کے لیے رعایتی اجازت نامے (Waivers) جاری کرے گا۔
11۔ امریکا اس بات کا پابند ہوگا کہ حتمی معاہدے کی جانب مذاکرات میں پیش رفت کے ساتھ ایران کے منجمد یا محدود فنڈز اور اثاثے جاری کیے جائیں اور مکمل طور پر قابل استعمال بنائے جائیں۔ یہ فنڈز، خواہ مرکزی اکاؤنٹ میں ہوں یا منتقل کیے گئے ہوں، ایرانی مرکزی بینک کی جانب سے مقرر کردہ حتمی مستفیدین کو ادائیگی کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے۔ امریکا اس مقصد کے لیے تمام ضروری اجازت نامے اور لائسنس جاری کرے گا۔
12۔ ایران اور امریکا اس بات پر متفق ہیں کہ حتمی معاہدے پر عملدرآمد اور مستقبل میں اس کی پاسداری کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی نظام تشکیل دیا جائے گا۔
13۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد، اور شق 4، 5، 10 اور 11 پر عملدرآمد کے آغاز اور اس کے تسلسل سے متعلق یقین دہانیوں کے بعد، ایران اور امریکا باقی ماندہ شقوں کے حوالے سے حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کریں گے۔
14۔ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک لازمی اور پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔



