ایران جنگ نے امریکا کو تھکا دیا؟فوجی قیادت کا پیٹ ہیگستھ کو بڑا انتباہ،طویل جنگ ناقابلِ برداشت قرار

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے) ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے امریکی فوجی قیادت کی جانب سے انتہائی اہم اور تشویشناک انتباہ سامنے آگیا۔ امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں نے سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کو طویل عرصے تک جاری رکھنا امریکی فوج کے لیے غیر پائیدار ثابت ہوسکتا ہے اور اس سے دنیا کے دیگر حصوں میں خطرات سے نمٹنے کی امریکی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ ایک حالیہ خفیہ جائزے میں سامنے آیا، جس میں امریکی فوجی قیادت نے ایران جنگ کے لیے مسلسل فوجی وسائل فراہم کرنے کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے اعلیٰ حکام کے علاوہ یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکا میں امریکی فوجی آپریشنز کی نگرانی کرنے والے کمانڈروں نے بھی طویل جنگ کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی فوجی وسائل پر دباؤ بڑھ گیا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری آپریشنز کے باعث امریکی فوج کے بحری جہاز، طیارے، اہلکار اور ہتھیار بڑی تعداد میں مشرق وسطیٰ منتقل کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں دیگر خطوں میں امریکی فوجی سرگرمیوں اور تربیتی صلاحیتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
امریکی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈیرل کاؤڈل نے مبینہ طور پر خبردار کیا کہ موجودہ سطح پر ایران جنگ کے لیے مدد فراہم کرنا برقرار رکھنا ممکن نہیں، خصوصاً اس لیے کہ جنگ کے خاتمے کی کوئی واضح تاریخ سامنے نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی بحری بیڑے کے تباہ کن جہازوں میں سے تقریباً ایک چوتھائی ہی فوری طور پر تعیناتی کے لیے تیار رہ گئے ہیں، جبکہ مسلسل آپریشنز کے باعث جہازوں کی مرمت اور مستقبل کی جنگی تیاریوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
چین سمیت دیگر محاذوں پر بھی تشویش
امریکی فوجی قیادت کے خدشات صرف ایران تک محدود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق یورپ، بحرالکاہل اور دیگر علاقوں میں تعینات امریکی افواج کے وسائل بھی ایران آپریشن کی حمایت کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے دیگر عالمی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔
خصوصاً بحرالکاہل میں چین کے مقابلے کے لیے امریکی فوجی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، کیونکہ خطے میں تعینات اہم بحری وسائل مشرق وسطیٰ منتقل کیے گئے ہیں۔
پیٹریاٹ، THAAD اور ٹوماہاک میزائلوں پر بھی دباؤ
رپورٹ میں امریکی دفاعی وسائل پر پڑنے والے دباؤ کی مزید تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایران جنگ اور دیگر سابقہ ذمہ داریوں کے باعث پیٹریاٹ اور THAAD انٹرسیپٹرز سمیت بعض اہم میزائل ذخائر پر دباؤ بڑھنے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ ٹوماہاک کروز میزائلوں کے ذخیرے پر بھی اثر پڑنے کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے ریپر ڈرون بیڑے کا تقریباً 25 فیصد بھی ضائع ہوچکا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
چھ ماہ بعد بھی جنگ کا کوئی واضح اختتام نہیں
ایران کے خلاف جنگ کو شروع ہوئے تقریباً چھ ماہ ہوچکے ہیں، لیکن تنازع کے خاتمے کے واضح امکانات اب بھی نظر نہیں آرہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوجی قیادت میں مجموعی تاثر یہ ہے کہ موجودہ آپریشن ’’بہت زیادہ اور بہت طویل‘‘ ہوچکا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع نے اندرونی آپریشنل معاملات اور فوجی قیادت کی مخصوص رائے یا خطرات کے جائزوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
یوں ایران جنگ کے حوالے سے امریکی فوجی قیادت کی تازہ تشویش نے واشنگٹن کے لیے ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہے کہ اگر جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو امریکا ایک ہی وقت میں ایران اور دنیا کے دوسرے ممکنہ محاذوں پر اپنی فوجی طاقت کس حد تک برقرار رکھ سکے گا؟



