ایران کیخلاف فوجی کارروائی سے زیادہ اقتصادی دباؤزیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے،امریکی حکام

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف طویل مدت میں فوجی کارروائی سے زیادہ اقتصادی دباؤ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی میڈیا ایکسیوس کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی دباؤ کی مہم کو فضائی حملوں کے مقابلے میں کم توجہ ملی ہے، تاہم امریکی حکومت کے سینئر حکام کا ماننا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں بالآخر تہران کو فوجی کارروائی سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کا اندازہ ہے کہ پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران میں پیٹرول کی قلت، بینکوں سے بڑے پیمانے پر رقوم نکلوانے کے خدشات اور جنگجوؤں کو ادائیگیاں کرنے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، جس سے تہران پر مالی دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایران کو وزارتِ جنگ سے زیادہ امریکی وزارتِ خزانہ کا خوف ہے۔

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ صرف اقتصادی دباؤ کے ذریعے تہران کو کسی معاہدے پر آمادہ کرنے میں مکمل فوجی کارروائی کے مقابلے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منجمد اثاثوں تک رسائی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی ایران کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہیں، یہ معاملات ان مذاکرات کا اہم حصہ ہیں جن کا مقصد جنگ بندی کے موجودہ وقفے کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button