احمدی نژاد پر غداری کے سنگین ترین الزامات؟ علی خامنہ ای کی شہادت اور ریجیم چینج کا بھیانک پلان فاش!

تہران: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک سنسنی خیز اور دھماکے دار رپورٹ نے پوری دنیا اور بالخصوص مسلم امہ میں شدید ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے، جس میں یہ لرزہ خیز دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد مبینہ طور پر اسرائیل اور امریکہ کے مہرے کے طور پر کام کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ایران پر حملوں سے پہلے احمدی نژاد اسرائیلی حکام کے ساتھ مسلسل خفیہ رابطوں میں تھے اور عزرائیل نے اپنے پورے جنگی پلان سے انہیں پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔ اس بھیانک ترین ریجیم چینج منصوبے کے تحت ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو حملے میں شہید کرنے کے بعد، گھر پر نظر بند سابق صدر احمدی نژاد کو آزاد کروا کر ایران کا نیا سپریم لیڈر بنانا طے پایا تھا۔ منصوبے کے مطابق 28 فروری کو ان کی رہائش گاہ کے باہر پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی چوکی پر عزرائیل نے شدید بمباری کی تاکہ انہیں وہاں سے بھگایا جا سکے، لیکن حملے کی غیر متوقع شدت کے باعث احمدی نژاد خود بھی زخمی ہو گئے اور یہ خفیہ منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ اس ہولناک انکشاف کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے فوری ایکشن لیتے ہوئے سابق صدر احمدی نژاد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے جہاں ان پر سپریم لیڈر کی شہادت کی سازش اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے سنگین ترین الزامات کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جائے گا، جس میں ایران کے سخت گیر قوانین کے مطابق ان کو سزائے موت دیے جانے کا قوی امکان ہے۔
ایران کے اندرونی بحران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی الٹی گنتی اور اس ہولناک ترین بین الاقوامی جاسوسی نیٹ ورک کی مکمل حقیقت جاننے کے لیے معروف تجزیہ کار معظم فخر کا یہ وی لاگ مکمل دیکھیں۔
وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:




