ایران کا امریکا کو بڑا پلان،7روز میں آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے) ایران نے امریکا کے سامنے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے کا مشروط منصوبہ پیش کردیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تہران نے اپنا منصوبہ ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز ساتویں روز کھولی جاسکتی ہے اور ایران امریکا مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔

عباس عراقچی کے مطابق منصوبے پر عملدرآمد کی صورت میں جنگ کے خاتمے اور ایک حتمی معاہدے کے لیے جامع مذاکرات کا دوبارہ آغاز ممکن ہوگا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے منصوبہ قبول کیے جانے کے اگلے روز سات روزہ ٹائم لائن شروع ہوسکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی تجویز میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی، امریکی معاشی دباؤ میں کمی، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی جیسے مطالبات شامل ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق منصوبے میں مرحلہ وار آبنائے ہرمز کھولنے اور وسیع تر مذاکرات کے لیے ٹائم فریم بھی زیر بحث ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران اب امریکا کے جواب کا منتظر ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے ثالثوں کے ذریعے ہونے والی بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے، تاہم امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس مخصوص سات روزہ منصوبے کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ اس راستے میں جاری رکاوٹوں نے عالمی تیل کی ترسیل اور توانائی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ ایران امریکا مذاکرات میں مرکزی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button