انڈونیشیا میں آتش فشاں پھٹ پڑا، جکارتہ ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن معطل

جکارتہ (ویب ڈیسک) انڈونیشیا میں آتش فشاں ماؤنٹ آناک کراکاٹاؤ سے خارج ہونے والی راکھ دارالحکومت جکارتہ تک پہنچنے کے بعد ملک کے مرکزی ہوائی اڈے پر پروازوں کا آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا گیا۔
جکارتہ کے باہر واقع سوئیکارنو ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق آتش فشاں کی سرگرمی میں اضافے کے باعث اتوار کی صبح پروازوں کی آمد و رفت دوپہر 1 بج کر 30 منٹ تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آتش فشاں ایئرپورٹ سے 150 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع ہے۔
موسمیاتی ادارے بی ایم کے جی کے مطابق ماؤنٹ آناک کراکاٹاؤ میں جمعہ کی رات سے دوبارہ سرگرمی شروع ہوئی، جس دوران لاوے کے فوارے بلند ہوئے جبکہ دھماکوں کی آوازیں 700 کلومیٹر دور تک سنی گئیں۔ آتش فشاں کی نگرانی کرنے والے ادارے نے اتوار کو مزید دو دھماکے ریکارڈ کیے جانے کی بھی اطلاع دی ہے۔
بی ایم کے جی کے مطابق آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ جاوا کی جانب 6 ہزار میٹر جبکہ سماٹرا کی جانب 15 ہزار میٹر کی بلندی تک پہنچ گئی۔ جاوا کے صوبے بنتن کے بعض علاقوں میں بھی راکھ کے بادل دیکھے گئے۔
انڈونیشیا کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق پروازوں کی معطلی کے پہلے مرحلے کے باعث 33 پروازیں متاثر ہوئیں، جن میں 16 بین الاقوامی پروازیں منسوخ جبکہ 7 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
آتش فشاں کی سرگرمی اور راکھ کے پھیلاؤ کے باعث حکام کی جانب سے فضائی سفر کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔


