انڈونیشیا کا متنازع فیصلہ، سرمایہ کاروں کو غیر معمولی قانونی تحفظ دینے کا اعلان

جکارتہ (مانیٹرنگ ڈیسک) انڈونیشیا نے صدر پرابوو سوبیانتو کے خودمختار ویلتھ فنڈ "دانانتارا” میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے سرمایہ کاروں کو غیر معمولی قانونی تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر ماہرین نے شفافیت اور احتساب کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مالیاتی شعبے سے متعلق 207 صفحات پر مشتمل نئے قانون میں ایسی شق شامل کی گئی ہے، جس کے تحت دانانتارا فنڈ کے بانڈز خریدنے والے سرمایہ کاروں کو فوجداری، دیوانی اور ٹیکس تحقیقات سے قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔
قانون کے مطابق ان بانڈز سے متعلق ریکارڈ نہ تو ٹیکس جانچ کے لیے استعمال کیا جا سکے گا اور نہ ہی عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا جا سکے گا، جس نے قانونی اور مالیاتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی استثنیٰ کے باعث ایسے سرمایہ کار بھی متوجہ ہو سکتے ہیں جن کے سرمایہ کے ذرائع مشکوک ہوں، جس سے انڈونیشیا کی مالیاتی شفافیت، احتسابی نظام اور بین الاقوامی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کرنا اور صدر پرابوو سوبیانتو کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون سے احتساب اور شفافیت کے بنیادی اصول کمزور پڑ سکتے ہیں۔



