مودی کے زیر اقتدار بھارت میں مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز جرائم کے ہوشربا انکشافات

نئی دہلی (ویب ڈیسک) انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر کی ایک رپورٹ میں بھارت میں مذہبی بنیادوں پر مبینہ نفرت انگیز جرائم اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر سنگین دعوے سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر نے 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں بھارت کی 8 ریاستوں میں مبینہ ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں 13 مسلمانوں کے قتل کے واقعات کی نشاندہی کی ہے۔
اسی طرح سائوتھ ایشیا جسٹس کمپیئن کے ٹریکر کے مطابق ہجومی تشدد، جعلی پولیس مقابلوں اور دورانِ حراست اموات جیسے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے ہیں، جن میں مزید 4 اموات ریاستی کارروائیوں سے منسوب کی گئی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو جبری نقل مکانی، بے دخلی اور بعض شہری حقوق سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ مذہبی فرائض کی ادائیگی پر گرفتاریوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
متنازع “اسپیشل انٹینسیو ریویژن” کے تحت 13 ریاستوں میں 56 ملین سے زائد ووٹرز، بالخصوص مسلمانوں، کے نام انتخابی فہرستوں سے نکالے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بھارتی قیادت اور حکمران جماعت پر بھی تنقید کی گئی ہے، جس میں وزیراعظم Narendra Modi اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔
تاہم یہ تمام دعوے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں، اور بھارتی حکومت یا متعلقہ اداروں کا مؤقف فوری طور پر رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔



