عمران خان جیسی سہولتیں مانگنے والے3قیدیوں کوبڑاجھٹکا،اسلام آبادہائیکورٹ نے درخواستیں مستردکردیں

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) بانی پی ٹی آئی عمران خان کو دستیاب سہولتوں جیسی مراعات حاصل کرنے کے خواہشمند اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کو عدالت سے بڑا دھچکا لگ گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں قیدیوں کی درخواستیں مسترد کردیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف نے اڈیالہ جیل میں قید تین قیدیوں کی جانب سے دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ کھلی عدالت میں سنا دیا اور تینوں درخواستیں خارج کردیں۔

عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے درخواستیں مسترد کردی ہیں، جبکہ فیصلے کی تفصیلی وجوہات تحریری فیصلے میں بیان کی جائیں گی۔

قیدیوں نے کیا سہولتیں مانگی تھیں؟

اڈیالہ جیل میں قید تینوں درخواست گزاروں نے عدالت سے مختلف سہولتیں فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔

درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں نجی اسپتال میں علاج کرانے کی اجازت دی جائے، جبکہ بیرون ملک مقیم اہلخانہ سے فون پر بات چیت کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔

قیدیوں نے اپنی درخواستوں میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو حاصل بعض سہولتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسی نوعیت کی سہولتیں فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔

عدالت نے تینوں درخواستیں خارج کردیں

جسٹس محمد آصف نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو اب کھلی عدالت میں سنا دیا گیا ہے۔

عدالت نے تینوں درخواستیں مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے طلب کی گئی سہولتوں کے حوالے سے ان کی استدعا منظور نہیں کی جاسکتی۔

تاہم عدالت کی جانب سے تفصیلی وجوہات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔ تحریری فیصلہ سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ عدالت نے درخواستیں مسترد کرنے کیلئے کن قانونی نکات اور وجوہات کو بنیاد بنایا۔

عمران خان کی سہولتوں کا حوالہ کیوں دیا گیا؟

تینوں قیدیوں کی درخواستوں کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو حاصل سہولتوں کو بنیاد بناتے ہوئے اپنے لیے بھی اسی نوعیت کی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

خصوصاً نجی اسپتال میں علاج اور بیرون ملک مقیم اہلخانہ سے فون پر رابطے کی اجازت ان کی درخواستوں کا اہم حصہ تھی۔

عدالتی فیصلے کے بعد اب تفصیلی تحریری حکم کا انتظار کیا جارہا ہے، جس سے اس معاملے کے قانونی پہلو مزید واضح ہوں گے۔

تحریری فیصلہ سامنے آنے پر مزید تفصیلات متوقع

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فی الحال مختصر فیصلہ سناتے ہوئے تینوں درخواستیں خارج کردی ہیں، تاہم تفصیلی وجوہات تحریری فیصلے میں درج کی جائیں گی۔

تحریری فیصلہ سامنے آنے کے بعد یہ بھی واضح ہوسکے گا کہ عدالت نے نجی اسپتال میں علاج اور بیرون ملک اہلخانہ سے فون پر رابطے سمیت دیگر سہولتوں کے مطالبات کو کن قانونی بنیادوں پر مسترد کیا۔

یوں عمران خان جیسی سہولتیں حاصل کرنے کے خواہشمند اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کو عدالت سے فوری طور پر ریلیف نہ مل سکا اور ان کی تینوں درخواستیں خارج کردی گئیں۔

مزید خبریں

Back to top button