عمران دورمیں شاہی سامان بنی گالہ منتقل کرنے کاانکشاف

لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں اس وقت زبردست ہلچل مچ گئی ہے جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے آئندہ ماہ جولائی میں ہونے والے دورۂ پاکستان کی اندرونی کہانی اور ماضی کا ایک انتہائی ہوشرُبا انکشاف سامنے آیا ہے۔ انتہائی معتبر ذرائع سے یہ دھماکہ خیز انکشاف ہوا ہے کہ 2019 میں عمران خان کے دورِ حکومت میں جب سعودی ولی عہد پاکستان آئے تھے، تو وہ اپنے شاہی لائف سٹائل کے مطابق پرائم منسٹر ہاؤس میں جو قیمتی قالین، شاہی صوفے، کراکری اور اپنی مخصوص جوگنگ مشین چھوڑ کر گئے تھے، وہ تمام قیمتی شاہی سامان سرکاری توشہ خانے یا پرائم منسٹر ہاؤس میں رکھنے کے بجائے مبینہ طور پر بنی گالہ منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس حیرت انگیز انکشاف کے ساتھ ہی وفاقی دارالحکومت میں شاہی دورے کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں، جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطے میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی انتھک سفارتی کاوشوں کو بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قائم انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کے مغل پورہ جلاؤ گھیراؤ کیس کا ہائی وولٹیج فیصلہ سناتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی کڑی سزا سنا دی ہے، جبکہ اسی مقدمے میں شاہ محمود قریشی کو لاہور میں عدم موجودگی کی بنیاد پر بری کر دیا گیا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ 9 مئی کی ہنگامہ آرائی میں ملوث عناصر کو کسی صورت رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہے، جس کے باعث تحریکِ انصاف کا بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
اس دھماکہ خیز اندرونی کہانی اور شاہی سامان کی منتقلی کے دلچسپ حقائق پر مبنی سینیئر صحافی سید عمران شفقت کا یہ وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں




