ہر کہانی کیلئے 150 یا 800 کروڑ نہیں چاہیے ہوتے، کم بجٹ میں بھی جاندار فلم بنائی جاسکتی ہے، ہما قریشی

ممبئی(جانوڈاٹ پی کے)نامور بھارتی اداکارہ ہما قریشی نے کہا ہے کہ فلموں کی کمائی کے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں۔
اپنے ایک انٹرویو کے دوران ہما قریشی کا کہنا تھا کہ اداکار کے طور پر آپ دوسروں کے کام دینے کے محتاج ہوتے ہیں لیکن ہم مظلوم بن کر بیٹھنے والے نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فلم سازی ایک بڑا رسک ضرور ہے لیکن اپنی کہانیاں خود بنانا ایک عاجزانہ تجربہ ہے۔ ہر کہانی بنانے کے لیے 150 یا 800 کروڑ نہیں چاہیے ہوتے، کم بجٹ میں بھی جاندار مواد بنایا جا سکتا ہے۔
انڈسٹری میں 800 سے 900 کروڑ کی فلموں کے چرچوں اور 100 کروڑ کی اوپننگ کے دباؤ کے سوال پر انہوں نے کہا، ’میں یہ دباؤ بالکل نہیں لیتی کیونکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں۔ انڈسٹری میں اکثر باکس آفس کے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’اصل بات یہ ہے کہ کیا فلم کا کنٹینٹ لوگوں کو دوبارہ دیکھنے پر مجبور کرتا ہے؟ نمبرز سے زیادہ کہانی کو اہمیت ملنی چاہیے۔‘
دہلی میں طلبہ کے احتجاج میں شرکت سے متعلق ہما کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں، لیکن انسان دوستی کے ناطے وہ رات 2 بجے بغیر کسی میڈیا یا کیمرے کے خاموشی سے طلبہ کی یکجہتی کے لیے گئی تھیں۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ کھیلوں سے منسلک شخصیات یا صنعت کاروں سے کوئی سوال نہیں کرتا، لیکن اداکاروں کو ہر معاملے پر گھسیٹا جاتا ہے۔
اداکار رچت سنگھ کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربتوں اور شادی کی افواہوں پر ہما قریشی کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ کا بھی یہی سوال ہے لیکن فی الحال ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ شادی جب ہونی ہوگی ہو جائے گی، فی الوقت یہ سال کام کے لحاظ سے ان کے لیے انتہائی مصروف ہے۔



