آبنائے ہرمز پر ایران کو محدود کنٹرول دینے کی تجویز، امریکا اور ایران معاہدے کی نئی تفصیلات سامنے آ گئیں


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کو محدود نوعیت کا کنٹرول دینے کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ اور اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ عالمی جہاز رانی کے لیے کھولنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی اور علاقائی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت ایرانی علاقائی پانیوں سے کرانے، جہازوں کے معائنے کے طریقہ کار اور ممکنہ فیس کے نظام سے متعلق نکات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران تجارتی جہازوں سے 5 سے 7 فیصد فیس وصول کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ عمان 3 فیصد فیس کی تجویز دے رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا کسی بھی قسم کی فیس عائد کیے جانے کے حق میں نہیں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کو آبنائے ہرمز پر کسی بھی نوعیت کا محدود انتظامی یا عملی کنٹرول ملتا ہے تو اسے خطے میں طاقت کے توازن میں ایک اہم تبدیلی تصور کیا جائے گا۔
تاہم علاقائی ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے کی کامیابی کا انحصار اب بھی کئی اہم نکات اور تفصیلات پر ہے، جن پر فریقین کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔