حنا جاوید اور آیت نور کیسز میں پولیس تحقیقات پر سوالات، قائمہ کمیٹی کا بڑا حکم

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) حنا جاوید اور ہری پور میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 7 سالہ بچی آیت نور کے کیسز میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پولیس کی تحقیقات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دونوں مقدمات کی ترجیحی بنیادوں پر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرپرسن سید نوشین افتخار کی زیرصدارت ہوا، جس میں دونوں کیسز کی تفتیش اور پولیس کی جانب سے اب تک کی جانے والی کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔
حنا جاوید قتل کیس
اجلاس میں سی پی او راولپنڈی نے حنا جاوید قتل کیس پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی شواہد سے واضح ہوگیا تھا کہ واقعہ ڈکیتی یا خودکشی کا نہیں بلکہ قتل کا ہے۔
سی پی او کے مطابق تحقیقات میں سائنسی طریقہ کار اختیار کیا گیا اور کرائم سین سے 80 شواہد اکٹھے کیے گئے، جبکہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی رپورٹس کا انتظار ہے۔
کمیٹی ارکان نے حنا جاوید کے سسر کی گرفتاری سے متعلق سوال بھی اٹھایا۔ اس پر سی پی او راولپنڈی نے بتایا کہ حنا جاوید کے سسر کو تین روز تک حراست میں رکھا گیا تھا، تاہم تحقیقات کی تفصیلات فی الحال منظر عام پر نہیں لائی جاسکتیں۔
آیت نور کیس میں پولیس تحقیقات پر عدم اطمینان
اجلاس میں ہری پور کی 7 سالہ بچی آیت نور سے مبینہ زیادتی اور قتل کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ رکن کمیٹی بابر نواز نے پولیس تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہری پور پولیس کی تحقیقات پر اعتماد نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پولیس کی جانب سے پانچ افراد کے ملوث ہونے کی بات کی گئی تھی، چار افراد گرفتار ہوگئے تو پانچواں کہاں ہے؟
ضلعی پولیس افسر ہزارہ نے کمیٹی کو بتایا کہ آیت نور کو گھر سے باہر بلانے والا بچہ ساڑھے 12 سال کا ہے، جبکہ کیس میں نامزد چاروں ملزمان بھی کم عمر ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق کیس کی تحقیقات کے دوران 200 کیمروں کی فوٹیج مانیٹر کی گئی، جن میں سے 25 کیمروں کی فوٹیج کو تحقیقات کے لیے کارآمد قرار دیا گیا۔
کمیٹی رکن زیب جعفر نے ایف آئی آر کے اندراج میں دو روز کی مبینہ تاخیر پر سوال اٹھایا، جبکہ سحر کامران نے دریافت کیا کہ آیت نور کیس میں زینب الرٹ قانون کا اطلاق کیا گیا یا نہیں۔
اجلاس کے دوران چیئرپرسن کمیٹی سید نوشین افتخار نے بچوں کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے بچے کہیں محفوظ نہیں‘‘۔
انہوں نے سیف سٹی منصوبے پر توجہ دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ 30 سے 35 کروڑ روپے خرچ کرکے سیف سٹی منصوبے کو مؤثر بنایا جائے۔
قائمہ کمیٹی نے دونوں کیسز میں تفتیش کے مختلف پہلوؤں پر اٹھائے گئے سوالات اور تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔



