مزدوروں کے واجبات کا مقدمہ،لاہور ہائیکورٹ نے پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی کےاختیارات واضح کردیے

جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے فیصلے میں واضح کیا کہ پیمنٹ آف ویجز ایکٹ 1936 کے تحت اتھارٹی کو اپنے حتمی فیصلے پر نظرثانی کا اختیار حاصل نہیں۔ یہ اختیار اسی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جب قانون میں اس کی واضح اجازت موجود ہو، محض قیاس یا مفروضے کی بنیاد پر ایسا اختیار تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ قانون کے رول 8 کے تحت یک طرفہ فیصلے کو منسوخ کرنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم فریقین کو سننے اور میرٹ پر فیصلہ جاری ہونے کے بعد اسی ضابطے کے تحت اس پر نظرثانی نہیں کی جا سکتی۔ یک طرفہ فیصلے کی منسوخی اور میرٹ پر دیے گئے حتمی فیصلے پر نظرثانی دو الگ قانونی معاملات ہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی فریق کے پاس اپیل کا قانونی راستہ موجود ہو تو اسے اختیار کیے بغیر براہ راست آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت کے مطابق مقررہ مدت میں اپیل دائر نہ کرنا اور بعد ازاں ایسے طریقۂ کار کے ذریعے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کرنا جس کی قانون اجازت نہیں دیتا، قانونی تقاضوں سے بچنے کے مترادف ہے۔ مقررہ رقم جمع کرائے بغیر اپیل کے تقاضوں سے بچنے کے لیے آئینی درخواست دائر کرنا بھی قابل قبول نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ حقائق اور شواہد کا ازسرنو جائزہ لینا اپیلیٹ فورم کا کام ہے، آئینی عدالت کا نہیں۔ فیصلے میں پیمنٹ آف ویجز ایکٹ 1936 کو مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور داد رسی کے لیے اہم قانون قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ قانونی اختیارات کا استعمال مقررہ حدود کے اندر رہ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔



